تاریخ کو انتظار ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۷
مسلمان اس اہم کردار کی ادائیگی کے اہل صرف اس وقت بن سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ میں وہ ضروری لیاقت پیدا کریں جس کو تخلیقیت (creativity) کہا جاتا ہے۔ تخلیقی گروہ وہ ہے جو منفی طرزِ فکر سے پاک ہو اور معاملات کو صرف مثبت انداز سے دیکھے، جو دوسروں کے ساتھ تعلقات میں بلند نظری کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ تنگ نظری کا طریقہ۔ جو اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ڈیوٹی پر نظر رکھتا ہو۔ جو اپنے جذبات سے زیادہ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا جانتا ہو، جو اشو اور نان اشو میں فرق کرے اور صرف ان چیزوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے جو تغیر و ترقی کے عمل کے لئے حقیقی اشو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تخلیقی گروہ وہ ہے جو گروہی ذہنیت سے پاک ہو اور معاملات کو انسانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھے۔ جس کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی ہو نہ کہ نفرت و حقارت۔ جس کا تحمل کا مزاج اس کو اتنا اوپر اٹھا دے کہ وہ اشتعال انگیز چیزوں پر بھی مشتعل نہ ہو۔ جو اعلیٰ مقصد کے لئے جینے والا ہو نہ کہ محض ذاتی مفاد کے لئے جینے والا۔
تخلیقی گروہ وہ ہے جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ مسلسل طور پر ذہنی اور فکری ترقی کرتا رہے۔ وہ اس قابل ہو کہ مسائل کا نیا اور برتر حل دریافت کر لے۔ وہ زندگی کے ہر بند دروازہ کو کھولتا ہوا آخری منزل تک پہنچ جائے۔ کوئی بھی چیز اس کے سفر کو روکنے والی ثابت نہ ہو۔
یہی وہ صفات ہیں جن کو قرآن میں خلقِ عظیم (القلم۔ ۴) کہا گیا ہے۔ یعنی بلند نظری اور بلند کردار داری۔ بلند نظر اور بلند کردار لوگ ہی اس دنیا میں کوئی بڑا کام کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لئے فطرت کا قانون یہ ہے کہ چھوٹے کردار کے لوگ چھوٹا کام انجام دیں اور بڑے کردار کے لوگ بڑا کام۔
اہل اسلام کو دین کی صورت میں جو نعمت ملی ہے وہ کسی ایک گروہ کی وراثت نہیں۔ وہ ساری انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ دوسرے انسانوں تک اس سرمایہ کو پہنچانا ایک خدائی امانت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues