Al-Risala · July 1999 · page 8

تاریخ کو انتظار ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۸

کی ادائیگی کا معاملہ ہے۔ اور صرف اسی جذبہ کے تحت اس کو صحیح طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان ہزاروں سال تک کوئی بھی علمی یا تمدنی ترقی نہ کر سکا۔ تمام قابل ذکر ترقیاں اسلام کے ظہور کے بعد شروع ہوئیں۔

اس وقت کی دنیا مخلوقات کی پرستش میں پھنسی ہوئی تھی، اہل اسلام نے اس کو مخلوقات کی پرستش سے اوپر اٹھا کر خالق کی پرستش کا رستہ دکھایا۔ لوگ فطرت کے مظاہر کو مقدس مان کر اس کے سامنے صرف اظہار عقیدت کرنا جانتے تھے، اہل اسلام نے اس کے بجائے ان کے اوپر فطرت کی تسخیر کا دروازہ کھولا۔ لوگ دولت اور اقتدار کو معبود کا درجہ دے کر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھے ہوئے تھے۔ اہل اسلام نے دولت اور اقتدار کو ضرورت اور خدمت کے خانے میں ڈال کر انسان کو عظمت کا درجہ عطا کیا۔ لوگ اپنے مفروضہ عقائد کی بنا پر طرح طرح کے توہمات (superstitions) میں مبتلا تھے، اہل اسلام نے ان کو مفروضات اور توہمات سے نکال کر حقائق کی سطح پر سوچنے والا بنایا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“)

فکر انسانی میں یہ انقلاب پہلی بار اہل اسلام یا اہل توحید کے ذریعہ وقوع میں آیا۔ اس فکری انقلاب نے انسانیت کے اوپر تعمیر و ترقی کا وہ دروازہ کھول دیا جو ہزاروں سال سے اس کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

قدیم زمانہ کا انسان مشرکانہ افکار میں جیتا تھا۔ زندگی کا ہر شعبہ شرک کے ماتحت ہو گیا تھا۔ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے توہم پرستی کا نام ہے۔ اور توہم پرستانہ مزاج، بالفاظ دیگر غیر سائنٹفک مزاج، کے ساتھ کبھی کوئی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی۔ اہل اسلام کی صورت میں دنیا کو پہلی بار ایک ایسا انسانی گروہ ملا جس کا فکر خالص توحید پر مبنی تھا، وہ شرک اور توہم پرستی سے پوری طرح آزاد تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے ذریعہ دنیا کو پہلی بار حقیقت پسندی کا سبق ملا۔ لوگوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ توہمات سے آزاد ہو کر فطری قوانین کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تشکیل کریں۔ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page