ہندو مسلم اتحاد
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
ہندو مسلم اتحاد
ہندوستان کی قومی جدوجہد کے دو دور ہیں۔ پہلا دور ۱۹۴۷ء سے پہلے کا ہے اور دوسرا دور ۱۹۴۷ء کے بعد کا۔ پہلے دور میں سیاسی آزادی کا نشانہ تھا جو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو پورا ہوا۔ دوسرے دور میں ملک کی تعمیر نو کا نشانہ تھا جس کو سیاسی آزادی کے بعد انجام پانا تھا۔ عجیب بات ہے کہ پہلے دور کا نشانہ مکمل طور پر پورا ہوا لیکن دوسرے دور کا نشانہ اتنا زیادہ ناکام رہا کہ ۵۰ سال گزرنے کے بعد بھی اس کی منزل دکھائی نہیں دیتی۔
پہلے دور کا نشانہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد کے ذریعہ پورا ہوا تھا۔ اسی طرح دوسرے دور کے نشانہ کی تکمیل کے لئے بھی ضروری تھا کہ ہندو اور مسلمان مل کر اس کے لئے جدوجہد کریں۔ اس معاملہ کی اہمیت کو مہاتما گاندھی پوری طرح سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی رات کو تمام لیڈر دہلی میں اکٹھا ہو کر یہ انتظار کر رہے تھے کہ کب گھڑی کی سوئی ۱۲ پر پہنچے کیونکہ ۱۲ بج کر ایک منٹ پر انگریز وائسرائے آل انڈیا ریڈیو پر ہندوستان کی آزادی کا اعلان کرنے والا تھا۔ لیکن گاندھی واحد لیڈر تھے جو اس وقت دہلی میں موجود نہ تھے، وہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے گاؤں گاؤں کا دورہ کر رہے تھے۔ گاندھی کی نظر مستقبل پر تھی، اور بقیہ لیڈروں کی نظر صرف آج پر۔
مہاتما گاندھی اس فرقہ وارانہ اتحاد کو اتنا زیادہ اہمیت دیتے تھے کہ لوئی فشر کے بیان کے مطابق، انھوں نے اعلان کیا کہ۔ ۔۔ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو یہ سیکھنا ہو گا کہ وہ کس طرح امن اور میل ملاپ کے ساتھ رہیں۔ ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا: Hindus and Musalmans should learn to live together in peace and amity otherwise I should die in the attempt (p449)
مہاتما گاندھی کا یہ مشن ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ آزادی کے بعد بہت جلد انھیں گولی مار
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues