Gandhi sacrificed by fanaticism
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ۳۰ جنوری ۱۹۳۸ کو ہوا۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے مسٹر سکلد یپ سنگھ (پرنسپل ڈی اے وی کالج) رہتے تھے۔ اگلی صبح کو وہ ہمارے یہاں آئے اور کہا کہ آج میں نے بہت سے اخباروں میں مہاتما گاندھی کے قتل کی رپورٹ پڑھی۔ اس واقعہ کی سب سے بہتر سرخی وہ ہے جو امرت بازار پتریکا (اللہ باد) نے لگائی ہے۔ اس کی سرخی یہ تھی ۔ گاندھی مذہبی جنون کے ہاتھوں ہلاک :
Gandhi sacrificed by fanaticism
جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی واقعہ ہندوستانی تاریخ کے دونوں دوروں کے درمیان حد فاصل بن گیا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ملکی آزادی کی جدوجہد کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی متحدہ کوشش نے کامیاب بنایا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں ایک طرف مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو جیسے بہت سے ہندو لیڈر ہیں جو آزادی کی تحریک میں بھر پور طور پر شامل ہیں ۔ دوسری طرف مسلمانوں کی بڑی بڑی شخصیتیں بھی اس تحریک کی اگلی صف میں شریک ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، خان عبد الغفار خاں، وغیرہ۔ آزادی کی پوری جد و جہد میں ہندو مسلمان دونوں اسی طرح مل کر قربانیاں دیتے رہے۔ یہاں تک کہ یہ جدوجہد اپنی تکمیل تک پہنچ گئی۔
مگر آزادی (۱۹۴۷) کے بعد اچانک ایک بالکل مختلف منظر دکھائی دیتا ہے۔ اب ملک کے سامنے قومی تعمیر کے لئے جدوجہد کرنے کا مسئلہ تھا۔ مگر اس دو نمبرے مرحلہ میں مسلمان اچانک الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔ آزادی کے بعد ملکی تعمیر کے لئے دوبارہ ایک لمبی اور متحدہ کوشش در کار تھی مگر یہ متحدہ کوشش وجود میں نہ آسکی۔ آزادی سے پہلے جو ہندو اور مسلمان باہم مل کر کام کر رہے تھے۔ وہ آزادی کے بعد نہ صرف الگ ہوئے بلکہ ان کے درمیان وہ تباہ کن سلسلہ شروع ہو گیا جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues