Our attitude determines our altitude.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸
اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک طویل ایجنڈ بنایا ہے۔ بزعم خود وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایجنڈ املک کو ترقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ وقوع میں آجائے تو وہ ملک کو پیچھے دھکیلنے کے سوا کوئی کارنامہ انجام دینے والا نہیں۔
یہ ہند توا ایجنڈا اب کھل کر سامنے آچکا ہے۔ ۔۔ وہ ہے ملک کے تعلیمی نظام کو بھارتیہ سنسکرتی کے مطابق تشکیل دینا، ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ اس سنسکرتی کا پرچار کرنا، دستور اور قانون کو بھارتیہ سنسکرتی پر ڈھالنا، ملک کی تاریخ کو دوبارہ اپنی مرضی کے مطابق لکھنا، ملک سے ان تمام آثار کو مٹانا جو بھارتیہ سنسکرتی کی یاد نہ دلاتے ہوں، غرض پورے ملک پر اس عمل کو انجام دینا جس کو عام طور پر بھارتیہ کرن کہا جاتا ہے۔
جو صاحبان اس قسم کا خواب دیکھ رہے ہیں انہیں جاننا چاہئے کہ وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹا گھمانا چاہتے ہیں۔ وہ فطرت کے قانون سے لڑرہے ہیں۔ وہ گلوبل نیشنلزم کے زمانہ میں محدود نیشنلزم کا جزیرہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس قسم کی کسی کو شش کے لئے پیشگی طور پر یہ مقدر ہے کہ وہ سرے سے وقوع ہی میں نہ آئے۔ اس قسم کا منصوبہ بلاشبہ حقائق عالم کے خلاف ہے، اور حقائق عالم کی چٹان سے سر ٹکر اکر کوئی شخص اپنے سر کو توڑ تو سکتا ہے مگر وہ حقائق عالم کے رخ کو بدل نہیں سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues