Our attitude determines our altitude.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
کر سکے۔ چنانچہ اس نے ہندو مصنف کو ایک ایسا مشورہ دیا جو مکمل طور پر حقیقت پر مبنی تھا۔ اور اس دنیا کے لئے فطرت کا قانون یہ ہے کہ حقیقت پر مبنی منصوبہ کامیاب ہو اور تخیلات پر مبنی منصوبہ نا کام ہو کر رہ جائے۔
ضرورت ہے کہ اس انفرادی مثال کو پورے ملک میں قومی سطح پر دہرایا جائے۔ یہاں کے ہر پروگرام اور ہر اجتماعی سرگرمی کو سیکولر بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ خواہ تعلیمی ادارے ہوں یا تجارتی ادارے، کوئی جلسہ ہو یا تقریب، کوئی سرکاری معاملہ ہو یا غیر سرکاری معاملہ ہر جگہ سیکولرزم کے اصول کو اختیار کیا جائے۔ ہندوتو یا بھارتیہ سنسکرتی کو صرف ذاتی دائرہ میں محدود کر دیا جائے۔ اجتماعی عمل کے مواقع سے اس کو مکمل طور پر دور رکھا جائے۔
موجودہ دنیا میں جس ملک نے بھی کوئی بڑی ترقی کی ہے، اس نے اسی سیکولر اصول کو اختیار کر کے ترقی کی ہے۔ ہندوستان کے لئے بھی کامیابی کا یہی واحد راستہ ہے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ حتمی ہے کہ اگر ہماری موجودہ نسل نے اس کو خوشی کے ساتھ قبول نہ کیا تو ہماری اگلی نسل بغاوَت کرتے ہوئے اس کو اختیار کرے گی۔ جو مذہب یا سنسکرتی ترقی کے عمل میں عقب لشکر (rear-guard) کا کام انجام دے اس کو ماڈرن انسان کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ اِس سنگین حقیقت کو جس قدر جلد سمجھ لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔
ہندو تو لیڈر شپ نے پہلے بھارتیہ سنسکرتی کو آداب و رسوم کی سطح پر ملکی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے دیکھا کہ لوگ ان چیزوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں حتیٰ کہ خود جدید تعلیم یافتہ ہندو بھی اس قسم کی رسوماتی چیزوں سے بیزار رہے۔ اس کے بعد ہندو تو لیڈر شپ نے ایک اور فیصلہ کیا جو پہلے سے بھی زیادہ تباہ کن تھا۔ وہ یہ کہ --- لوگ اگر بھارتیہ سنسکرتی سے دلچسپی نہیں لے رہے ہیں تو لوگوں کے ذہن کو بدل کر انھیں ایسا بنایا جائے جو ان حضرات کی پسند کے مطابق ہو۔ یعنی جوا نھیں کی طرح بھارتیہ سنسکرتی کو پسند کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues