Al-Risala · July 1999 · page 20

تباہ کن ذہنیت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

قسم کے خارق عادت مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو کھڑا کر کے اس کی کمر کے پاس تلوار ماری جاتی ہے۔ تلوار اس کے جسم کو کاٹتی ہوئی دوسری طرف نکل جاتی ہے مگر اس کا جسم دوبارہ جڑ جاتا ہے اور وہ شخص بدستور زندہ کھڑا رہتا ہے۔

میرے ہندو میزبان جو ایک مغربی ملک سے اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کر کے آئے تھے انھوں نے ان عجیب و غریب مناظر کی وضاحت کرتے ہوئے کسی قدر معذرت خواہانہ انداز میں کہا : مولانا صاحب، یہ مائتھالوجی ہے۔ یہ کوئی واقعی تاریخ نہیں۔

کسی سماج کی ذہن سازی یا کردار سازی حقیقی کیریکٹر کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ افسانوی کیریکٹر کے ذریعہ۔ لوگ کسی افسانوی کہانی کو دلچسپی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا اسکرین پر دیکھ کر اس سے وقتی طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کا یہ اثر نہیں ہو سکتا کہ اس سے ان کی سوچ بدل جائے یا ان کے عمل میں انقلاب آجائے۔ افسانوی کیریکٹر ایک خیالی کیریکٹر ہوتا ہے اور ایک خیالی کیریکٹر کسی کے لئے عملی سبق کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

راما ئن اور مہا بھارت کے سیریل محض مائتھالوجی پر مبنی تھے۔ اس کے برعکس مغرب سے آنے والا کلچر ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ لوگوں کے اوپر مائتھالوجی پر بنی فلمی کہانی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ حقیقت پر مبنی مغربی کلچر کی طرف ٹوٹ پڑے ۔

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں سائنسی مزاج (scientific tempre) نہیں۔ پنڈت نہرو نے اپنے اس قول میں شاید انہیں لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو سائنسی دور میں مائتھالوجی کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ پنڈت نہرو نے درست طور پر یہ سمجھا تھا کہ اس قسم کی کوشش ہمارے ملک کو صرف پیچھے کی طرف لے جائے گی وہ آگے کی طرف لے جانے والی نہیں۔ اس قسم کی کوشش گویا ایک خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے۔ اور خلاف زمانہ حرکت کبھی کسی کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ ہمارے ملک میں ایک طبقہ ہے جس کو یہ اصرار ہے کہ تمام اسکولوں میں سرسوتی دیوی کی تصویریں لگائی جائیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page