تباہ کن ذہنیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
اور سرسوتی کی وندنا کی جائے ۔ ان کا خیال ہے کہ سرسوتی کو چونکہ علم کی دیوی مانا جاتا ہے اس لئے ایسا کرنے سے اسکولوں اور کالجوں میں علم کو فروغ حاصل ہو گا۔ مگر یہ سراسر خوش فہمی ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ 50 سال سے بھی زیادہ مدت سے سرسوتی دیوی کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے مگر ابھی تک ملک میں علمی ذوق یا سائنسی ذہن پیدا نہ ہو سکا۔ کوئی حقیقی ذوق صرف حقیقی کردار کے ذریعہ پیدا ہو سکتا ہے نہ کہ افسانوی کردار کے ذریعہ ۔
اسی طرح اس طبقہ کے ہندوؤں نے سوچا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں رام مندر بنا دیا جائے تو ملک میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ ملک کی تاریخ صحیح رخ پر سفر کرنے لگے گی۔ مگر یہ بھی محض ایک خوش فہمی ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
ایودھیا میں بابری مسجد کا بننا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ ثابت شدہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مغل بادشاہ بابر (وفات ۱۵۳۰) کے گورنر میر باقی نے ۱۵۲۸ میں ایودھیا کی یہ مسجد تعمیر کی۔ چونکہ وہ بابر کے زمانہ میں بنی تھی اس لئے وہ بابری مسجد کے نام سے مشہور ہو گئی۔ اس کے مقابلہ میں رام مسلمہ طور پر ایک افسانوی شخصیت ہیں۔ وہ کوئی تاریخی شخص (historical figure) نہیں۔ جب رام خود کوئی تاریخی شخصیت نہیں تو ان کی جنم بھومی بھی یقینی طور پر ایک غیر تاریخی قصہ ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو یہ واقعہ ہوا کہ مذکورہ ذہن رکھنے والے لوگوں نے بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں رام مندر کے نام پر ایک مندر بنا دیا۔ خالص علمی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہندوستان کی تاریخ کا وہ بد قسمت دن تھا جب کہ ایک افسانوی دلیل کے ذریعہ ایک تاریخی حقیقت کو رد کر دیا گیا۔
جن لوگوں نے ایسا کیا وہ اس کو تاریخ کی تصحیح کا نام دیتے ہیں مگر زیادہ درست طور پر وہ تاریخ کا قتل تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بظاہر پتھر کا ایک ڈھانچہ ڈھایا گیا مگر حقیقت کے اعتبار سے دیکھے تو اس دن تاریخی مزاج اور سائنسی ذہن کو ڈھا دیا گیا۔ اور کسی ملک کے لئے یقینی طور پر اس سے زیادہ تباہ کن بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کے عوام کے اندر سے تاریخی ذوق کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو مذکورہ پہلو سے کم اہم نہیں بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے وہ غالباً مذکورہ پہلو سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues