Al-Risala · July 1999 · page 22

تباہ کن ذہنیت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

ہندوستان کا دستور مکمل طور پر ایک سیکولر دستور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کی نیشنل لائف کو مذہب سے الگ رکھا جائے گا۔ نیشنل سرگرمیوں کو سیکولر بنیادوں پر قائم کیا جائے گا۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو مذہب کے معاملہ میں ہر شخص یا گروہ کو آزادی ہو گی کہ وہ اپنے نجی دائرہ میں جس مذہب پر چاہے عمل کرے۔ ملک کے ابتدائی معماروں کا یہ فیصلہ نہایت درست تھا کہ ملک کے اجتماعی نظام کو سیکولر بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ موجودہ حالات میں ہندوستان کے لئے سیکولر نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں ہو سکتا۔

مگر یہ دستور ہند کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہوگا کہ اقلیتوں کے مذہب کو تو ملک کی اجتماعی زندگی سے خارج کر دیا جائے لیکن اکثریتی فرقہ کے مذہب کو کسی ایک یادو سری نام پر اجتماعی زندگی میں شامل رکھا جائے۔ اس قسم کی دہری روش ملک میں منافقانہ فضا پیدا کرے گی اور قانون کے احترام کا مزاج یکسر ختم کر دے گی۔ قومی زندگی کو صالح بنیاد پر قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دستور اور قانون میں جو طے کیا جائے اس پر جیسا ہے ویسا (as it is) عمل کیا جائے۔

ایک طرف سیکولرزم اور مساویانہ حقوق کا نام لیتا اور دوسری طرف کسی ایک فرقہ کے مذہب کو نیا نام دے کر اس کو دوسرے فرقوں پر مسلط کرنا دو عملی کی روش ہے اور اس قسم کی روش پورے ملک میں لا قانونیت (lawlessness) کی ذہنیت پیدا کر دے گی۔ ایسے حالات میں یہ نا ممکن ہو جائے گا کہ ملک میں کوئی تعمیری معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

ملک کے تمام سنجیدہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہاں اقدار پر مبنی سماج (value based society) قائم ہو۔ اس قسم کے سماج کو بنانے کی پہلی شرط یہ ہے کہ ملک کے با اختیار لوگوں میں امانت داری (honesty) پائی جاتی ہو۔ دستور میں لفظی طور پر ایک بات لکھنا اور عملی زندگی میں بلا اعلان کسی اور بات کو رائج کرنا ایک کھلی ہوئی بد دیا نتی (dishonesty) ہے۔ جس سماج کے با اختیار طبقے میں بددیانتی کا مزاج ہو وہاں کبھی بھی اقدار پر مبنی سماج قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اور جو سماج اخلاقی اقدار (moral values) سے خالی ہو وہ یقینی طور پر ہر دوسری بھلائی سے بھی خالی ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page