Al-Risala · July 1999 · page 24

ہندوستان کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

جاری کیا جائے ۔ اس کے بغیر کوئی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔

ہندوستان کا سفر

ایک مسافر دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ہے۔ اس کو کلکتہ جانا ہے۔ وہ پلیٹ فارم پر ایک گاڑی دیکھتا ہے اور وہ بلا تحقیق اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ ٹرین روانہ ہوتی ہے۔ مسافر خوش ہے کہ وہ اپنی منزل کی طرف جا رہا ہے۔ مگر جب ٹرین اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ امرتسر کی طرف جانے والی ٹرین تھی نہ کہ کلکتہ کی طرف جانے والی ٹرین۔ اب مسافر پھر یہی کرتا ہے کہ وہ درستی تحقیق کے بغیر ایک اور ٹرین پر بیٹھ جاتا ہے۔ مگر دوبارہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک اور غیر مطلوب منزل پر پہنچ جاتا ہے کیوں کہ یہ ٹرین بمبئی کی طرف جارہی تھی نہ کہ کلکتہ کی طرف۔

اس قسم کا سفر بظاہر سفر دکھائی دیتا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ سفر بے منزل ہوتا ہے۔ جو مسافر اس طرح سفر کرے وہ کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچے گا، خواہ وہ اپنی ساری عمر ٹرینوں میں گزارتا رہے۔

بد قسمتی سے ہندوستان میں یہی صورت پیش آئی ہے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ اب ہم اس پوزیشن میں ہو گئے کہ ہم خود اپنے فیصلہ کے تحت ہندوستان کی اعلیٰ تعمیر کر سکیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے لیڈر قوم کو غلط ٹرینوں پر بٹھاتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال سے زیادہ مدت تک سفر کرنے کے باوجود ہندوستان اپنی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکا۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے قوم کو جس ٹرین پر بٹھایا اس کو ایک لفظ میں سوشلسٹ اکسپریس کہا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے پورے اقتصادی اور سماجی ڈھانچہ کو بدل دیا گیا۔ ملک کی تمام سرگر میاں حکومتی عہدہ داروں کے کنٹرول میں دنے دی گئیں۔ انگریزوں نے اپنی دوسو سالہ حکومت کے درمیان صرف پانچ سو قانون بنائے تھے۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues

Printed page