ہندوستان کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵
ملکی حکمرانوں نے چالیس سال کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالیے۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں وہ چیز قائم ہو گئی جس کو راج گوپال آچاری نے لائسنس پر مٹ راج کہا تھا۔ اس نئے نظام کے تحت ہماری آزادی ایک نئی اور شدید تر پابندی میں تبدیل ہو گئی۔ کسی کو ایک کارخانہ لگانا ہے تو ضروری ہو گیا کہ وہ پچاس سرکاری کھڑیوں پر کھڑا ہو اور کلیرنس کے لئے بر سوں اس دفتر سے اس دفتر تک دوڑتا رہے۔ نام نہاد لیسر قوانین کا نتیجہ یہ ہوا کہ ، جے آرڈی ٹاٹا کے الفاظ میں، ایک صنعت کار اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے مگر وہ اپنے ایک ورکر کو نکال نہیں سکتا۔ اس نام نہاد سوشلسٹ نظام کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں سے کمپٹیشن ختم ہو گیا۔ ملک کے بازار غیر معیاری سامانولی سے بھر گئے۔ سرکاری اہل کاروں کے بڑھے ہوئے اختیارات کی بنا پر کرپشن اتنا بڑھا کہ کوئی بھی چھوٹایا بڑا کام رشوت کے بغیر انجام پانا ناممکن ہو گیا۔ نام نہاد نیشنلائزیشن کے نتیجہ میں سرکاری ملازموں کی ایک عظیم فوج تیار ہو گئی جس کو یہ یقین تھا کہ وہ کام کرے یا نہ کرے مہینہ کے آخر میں بہر حال اس کو تنخواہ مل جائے گی ۔ اس مصنوعی نظام نے، ایک سنیئر صحافی کے الفاظ میں، پوری ہندوستانی قوم کو کاہل(lethargic) بنا دیا، وغیرہ وغیرہ۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے قوم کو سوشلسٹ اکسپریس پر سوار کیا تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ملک تیزی سے اعلیٰ ترقی کی طرف جار ہا ہے ۔ مگر چالیس سال کے بعد جب اس سفر کی منزل آئی تو یہ حالت ہوئی کہ ملک انگریزی دور سے بھی زیادہ برے حال میں مبتلا ہو چکا تھا۔ ہندوستان اپنی آبادی اور اپنے رقبہ کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا ملک ہے۔ مگر ترقی کے جدید معیار کے مطابق آج وہ دنیا کا ۱۳۸ واں ملک شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ اسی مدت میں سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے چھوٹے چھوٹے ملک ہم سے بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔
سوشلسٹ اکسپریس پر سفر کرنے کے بعد ہمارے لیڈروں کو محسوس ہوا کہ وہ غلط ٹرین پر بیٹھ گئے تھے۔ اب ملک میں ایک نئی لیڈر شپ زور پکڑنے لگی ہے۔ عرف عام کے مطابق اس نئی لیڈر شپ کو ہند تو لیڈر شپ کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے زور و شور کے ساتھ یہ کہنا شروع کیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues