Al-Risala · January 1999 · page 35

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

ہے۔ اس دوسرے جز میں واضح طور پر ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی تصدیق سائنسی دریافتوں سے نہیں ہوتی۔ اس طرح دوسری مقدس کتابوں میں دونوں قسم کے اجزا پائے جاتے ہیں، مطابق بھی اور غیر مطابق بھی۔ مگر قرآن کی صفت یہ ہے کہ وہ پورا کا پورا محفوظ الہام کی حیثیت رکھتا ہے، وہ انسانی ملاوٹ سے مکمل طور پر پاک ہے اس لئے قرآن پورا کا پورا سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جو چیز دوسری مقدس کتابوں میں صرف جزئی طور پر پائی جاتی ہے وہ قرآن میں کلی طور پر موجود ہے یہی اس معاملہ میں قرآن کا امتیازی وصف ہے۔ اس معاملہ کی تفصیلی مثالیں راقم الحروف کی کتابوں (مثلاً عظمت قرآن وغیرہ) میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

سوال

آج کل ہمارے یہاں یہ ذکر زوروں پر ہے کہ آپ نے وندے ماترم کہنا مسلمانوں کے لئے جائز کر دیا ہے۔ اگر یہ جائز ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے بہت قریب لادے گا۔ دشمنی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اگر مسلمان زمین کی وندنا کر سکتا ہے تو پھر ہمالہ، گنگا، سرسوتي، گائے وغیرہ کی وندنا کیوں نہیں کر سکتا۔ اور اگر کر سکتا ہے تو پھر شرک کیا ہے (شاکر وارث۔ مراد آباد)

جواب

وندے ماترم کی شرعی نوعیت کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو دوسرے علماء کی رائے ہے۔ اس معاملہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی اس کی ذمہ داری اردو کی زرد صحافت پر ہے۔ اس موضوع پر میرے آرٹیکل کا عنوان یہ تھا۔ ۔ وندے ماترم: اشویانان اشو۔ اردو اخبار والوں نے اس کو بدل کر "وندے ماترم، جائز یا نا جائز" بنا دیا۔ اس بدلے ہوئے عنوان

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page