Al-Risala · January 1999 · page 36

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

کی بنا پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ میں وندے ماترم کو جائز بتا رہا ہوں۔ حالانکہ اصولی اعتبار سے اس کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں اور نہ میں نے کبھی ایسا کہا۔ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اس معاملہ کو عوامی احتجاج کا اشو نہ بنایا جائے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات میں عوامی احتجاج صرف الثانیجہ پیدا کرتا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں وندے ماترم کو لازمی ٹھہرانا دستور کے خلاف ہے۔ مجھے اس سے اتفاق ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دستوری نزاع کا فیصلہ جلسوں اور تقریروں کے اسٹیج پر نہیں ہوتا۔ اس کے فیصلہ کا مقام عدالت ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں چاہئے کہ ہم ایک طرف متبادل اسکول قائم کریں اور دوسری طرف اپنی جد وجہد کے لئے عوامی مظاہرہ کے بجائے عدالتی طریقہ اختیار کریں۔ گویا کہ میرا اختلاف نفس مسئلہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ طریق کار کے بارے میں ہے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کسی اقلیت کے لئے مظہراتی طریقہ ہمیشہ ناکام ہوگا۔ اور عدالتی طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ مظاہراتی طریقہ میں فیصلہ کن چیز تعداد ہوتی ہے۔ یہاں اقلیتی گروہ اپنی عددی کمی کی بنا پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے بر عکس عدالتی طریقہ میں سارا انحصار دلیل پر ہوتا ہے اس لئے جو گروہ حق پر ہو اس کی کامیابی یقینی بن جاتی ہے گویا کہ ایک صورت میں فیصلہ کی بنیاد ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دوسری صورت میں فیصلہ کی بنیاد فریق ثانی کے ہاتھ میں۔ وندے ماترم ابھی تو لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر اس کو لازم کیا جائے تو اس کو چیلنج کرنے کی صحیح جگہ عدالت ہے نہ کہ عوامی اسٹیج سوال قرآن میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ نماز پڑھنے کا نہیں تو موجودہ پڑھی جانے والی نماز کن احکامات کی روشنی میں پڑھی جارہی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز قائم کرنے کا مطلب نظم و نسق درست کرنا ہے اور یہ کہ سجدہ کا مطلب تعمیل حکم ہے یہ کہاں تک درست ہے (محمد بدر الدین شمیم، ناگپور)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page