پیغام عمل
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱
شخصیتوں اور تحریکوں کے پرشور عمل کا سلسلہ تقریباً چالیس سال تک جاری رہا۔ مگر نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر پرابلم ہندوؤں نے ۱۹۷۳ء کے مقابلہ میں سوگنا زیادہ طاقت حاصل کرلی۔ وہ ملک کے اکثر اجتماعی اداروں میں داخل ہوگئے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی سطح پر اپنی حکومت بنالی، وغیرہ۔
نو پرابلم ہندوؤں کو لے کر پرابلم ہندوؤں کا مقابلہ کرنا، ایک غیر فطری اور غیر حکیمانہ نظریہ تھا۔ یہ ایک منفی نقطہ نظر ہے، اور منفی نقطہ نظر کے تحت کی ہوئی کوئی بھی کوشش کبھی مثبت نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔ مثبت نتیجہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے نہ کہ منفی جدوجہد کے ذریعہ۔
اس نقطہ نظر کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہندوستان کے مسلمان عملاً اس ملک میں ایک احتجاجی گروہ بن کر رہ گئے۔ مذکورہ نقطہ نظر عین اپنی فطرت کے مطابق، احتجاج اور شکایت کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اور یہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ ان کا ہر اخبار ایک احتجاج نامہ بن گیا۔ ان کے جلسے احتجاجی جلسوں میں تبدیل ہوگئے۔ ان کے درمیان ایسے لوگ قائد بن کر ابھرنے لگے جو اپنے پر شور الفاظ کے ذریعہ مسلمانوں کی احتجاجی نفسیات کو تسکین دے سکتے تھے۔ احتجاج یا شکایت، دل کی بھڑاس نکالنے کا دوسرا نام ہے۔ نئے ہندوستان میں یہاں کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، وہ اپنے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کے لئے ایک لفظی نکاس (outlet) پالیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کو ایک تخلیقی کردار (creative role) ادا کرنا تھا۔ اور ملک کی قسمت بنانے میں اپنا وہ تاریخی حصہ ادا کرنا تھا جو قانون فطرت کے تحت کسی زندہ اقلیت کے لئے مقدر ہے۔
انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بی نے اپنی کتاب (اسٹڈی آف ہسٹری) میں اقلیتوں کے اس رول کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہی بات قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے۔ کتنی ہی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues