پیغام عمل
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
چھوٹی جماعتیں اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر فائق ثابت ہوئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرہ ۲۴۹)
اس آیت میں اذن سے مراد قانونِ فطرت ہے جو اللہ نے اپنی حکمت کے تحت اس دنیا میں قائم فرمایا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جب بھی کوئی اقلیتی گروہ کا مقابلہ کسی اکثریتی گروہ سے پیش آتا ہے تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے جس کے مجموعہ کا نام قرآنی اصطلاح میں صبر ہے۔ یعنی چیلنج کا فائق تر سطح پر جواب دینے کا جذبہ پیدا ہونا۔ اس طرح چیلنج اور رسپانس کا میکانزم اقلیتی گروہ کے اندر نئی اور تخلیقی صفات پیدا کرتا ہے۔ وہ مسائل کا برتر حل دریافت کرتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اقلیت خود بھی کامیاب ہوتی ہے اور پورے سماج کے لئے بھی زندگی کا نیا تحفہ دینے کا سبب بن جاتی ہے۔ پیش آمدہ مسائل کا جواب اگر منفی انداز میں دیا جائے تو اسی کا نام بے صبری ہے۔ اور اگر پیش آمدہ مسائل کا جواب مثبت انداز میں دیا جائے تو اسی کو قرآن کی اصطلاح میں صبر کہا گیا ہے۔ منفی عمل کا مثبت جواب دینا، یہی تخلیقیت کا اہم ترین عنصر ہے۔ اور یہی وہ خاص صفت ہے جو کسی اقلیتی گروہ کو اکثریتی گروہ سے بھی زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ اب پہلا سوال یہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان اس تاریخی کردار کو ادا کرنے کے لئے کیا کریں جو ان کے لئے فطرت کے قانون کے تحت مقدر ہے۔ اس سلسلہ کا پہلا اور ضروری کام وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یعنی مسلمان اپنی احتجاجی سیاست کو ختم کر دیں اور اس کے بجائے مثبت تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔
ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس مقام پر ہیں اس کو ایک لفظ میں فریاد و شکایت کا مقام کہا جا سکتا ہے۔ پچاس سال سے زیادہ مدت تک اس طرز کی پالیسی کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں مسلسل مدافعت کی زبان بولنی پڑی۔ ان کا کیس اس ملک میں مظلومانہ فریاد کا کیس بن گیا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues