Al-Risala · August 1999 · page 4

خدائی قانون

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴

خدائی قانون

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں اہل اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ۔ ۔۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہے۔ نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہو گا (النساء ۱۲۲۔ ۱۲۴) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح و نجات کا خدائی قانون ایک ہی قانون ہے۔ مسلمان اور غیر مسلمان دونوں اسی قانون کے ماتحت ہیں۔ جو اس خدائی معیار پر پورا اترے گا اس کے لئے کامیابی ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے اس کے لئے ناکامی۔ کسی گروہ سے نسلی تعلق کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

نجات کی یہ بنیاد دو چیزوں پر قائم ہے، ایمان اور عمل صالح۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نجات کا انحصار تمام تر کچھ صفات پر ہے نہ کہ کسی گروہ سے نسلی تعلق پر۔ اس سلسلہ میں پہلی مطلوب صفت اللہ پر ایمان ہے۔ ایمان سے مراد کچھ الفاظ کو زبان سے بول دینا نہیں بلکہ اس سے مراد معرفت اور یقین کی وہ حالت ہے جب کہ آدمی خدا کے وجود کو اس طرح دریافت کرے کہ وہی اس کے لئے سب سے بڑی حقیقت بن جائے۔ خدا اس کی یادوں کا سب سے بڑا سرمایہ ہو۔ خدا کی عظمت کا احساس اس کو ہلا دے۔ خدا کے انعامات کا تصور اس کے اندر شکر کا چشمہ جاری کر دے۔ وہ سب سے زیادہ خدا سے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page