Al-Risala · August 1999 · page 5

خدائی قانون

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۵

ڈرے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرے۔ خدا کی ذات ہی اس کی سوچ اور اس کے جذبات کا مرکز و محور بن جائے۔

اس قسم کا ایمان جب کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے تو اس کی عملی زندگی بھی اس کے مطابق تشکیل پانے لگتی ہے۔ اس کی روز مرہ کی زندگی کا نقشہ بھی اس کی اندرونی تڑپ کے مطابق بننا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ صحیح فکر لازمی طور پر صحیح عمل پیدا کرتی ہے۔ فکر اور عمل کے درمیان اسی مطابقت کا شرعی نام عمل صالح ہے۔ اس عمل صالح کا تعلق زندگی کے ان تمام معاملات سے ہے جس سے آدمی کا سابقہ پیش آئے۔ آدمی جب بولے تو اس کا ہر بول اسی ایمان کی خوشبو میں بساہو ہو۔ جب وہ کسی سے معاملہ کرے تو اس کے ہر معاملہ میں اسی ایمان کا رنگ دکھائی دے۔ جب کسی کے ساتھ اختلاف یا نزاع پیش آئے تو یہاں بھی اس کا ایمان اس کے لئے رہنما بن جائے۔ وہ لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی محبت اور نفرت، اس کی دوستی اور دشمنی، اس کا جڑنا اور اس کا کٹنا، سب اس کے ایمان کے تابع بن جائے۔ یہی عمل صالح ہے، اور اس عمل صالح کے بغیر کسی کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔

امت کے افراد میں جب زندہ شعور موجود ہو، تو وہ اسی معنی میں صاحب ایمان ہوتے ہیں اور اسی معنی میں صاحب عمل بھی۔ مگر جب امت پر دور زوال آتا ہے تو اس کے افراد میں اس قسم کا زندہ ایمان اور زندہ عمل باقی نہیں رہتا۔ وہ اب بھی ایمان اور عمل صالح کا نام لیتے ہیں مگر اس کی حقیقی اسپرٹ ان کے یہاں پائی نہیں جاتی۔ ان کے یہاں الفاظ ہوتے ہیں مگر وہ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں بظاہر عمل ہوتا ہے مگر حقیقی روح کے بغیر۔ تنزل کے اس دور میں جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ لوگ امانی پر جینے لگتے ہیں۔ امانی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page