Al-Risala · August 1999 · page 7

بگاڑ کا دور

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۷

نزدیک غیر متعلق باتیں ہیں۔ خدا ہر ایک کو اس کی ذاتی صفات کے اعتبار سے جانچے گانہ کہ کسی اور اعتبار سے۔

بگاڑ کا دور

حضرت ابو سعید کہتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ضرور اتباع کرو گے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے ، بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول کیا وہ یہود و نصاری ہیں۔ آپ نے جواب دیا اور کون (لتتبعن سنن من قبلكم شبر ا بشبر وذراعا بذ راع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتمو هم قبل يارسول الله اليهو د والنصاری قال فمن) متفق عليه، بحواله مشكاة المصابيح ۳/ ۱۴۷۳ یہ حدیث ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ نصیحت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتیں زوال کے جس قانون کی زد میں آئیں، امت مسلمہ اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اس امت کے بعد کی نسلوں میں بھی وہی تمام بگاڑ لازمی طور پر پیدا ہوں گے جو پچھلی امتوں کی بعد کی نسلوں میں پیدا ہوئے۔

یہ بگاڑ کیا ہے۔ وہ بگاڑ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شعوری ایمان کے بجائے نسلی ایمان پیدا ہو جائے ۔ افراد امت میں دینی حساسیت باقی نہ رہے، اس کے بجائے لوگ دینی بے حسی میں جینے لگیں۔ دینی مظاہر تو ان کے در میان دکھائی دیں مگر ان کے در میان دینی اسپرٹ کا فقدان ہو چکا ہو۔ ان کا دین قومی دین ہو نہ کہ وہ دین جو خوف خدا کے تحت پیدا ہو تا ہے۔ وہ آخرت کا نام لیتے ہوں مگر ان کی تو جہات کا مرکز صرف دنیا کے مفادات بنے ہوئے ہوں ۔ وہ عملاً غیر دینی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page