Al-Risala · August 1999 · page 6

خدائی قانون

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۶

کی تشریح اس روایت سے ہوتی ہے جس کو اس آیت کا سبب نزول بتایا گیا ہے۔ روایت کے مطابق، یہود و نصاری نے کہا کہ جنت میں صرف وہ شخص جائے گا جو ہمارے گروہ سے ہو (قالت اليهود والنصارى لن يدخل الجنة الا من كان منا) اس پر یہ آیت اتری۔ ایک اور روایت کے مطابق مسلمانوں نے اور اہل کتاب نے ایک دوسرے پر فخر کیا۔ اہل کتاب نے کہا کہ ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے۔ پس ہم تمہارے مقابلہ میں اللہ کے یہاں زیادہ حق دار ہیں۔ اور مسلمانوں نے کہا کہ ہمارا نبی آخری نبی ہے۔ اور ہماری کتاب دوسری کتابوں پر فیصلہ کرنے والی ہے۔ اس پر یہ آیت اتری (تفاخر المؤمنون واهل الكتاب فقال اهل الكتاب: نبينا قبل نبيكم وكتابنا قبل كتابكم ونحن احق بالله منكم وقال المؤمنون نبينا خاتم النبيين وكتابنا يقضى على سائر الكتب فنزلت الآية) تفسیر القرطبی ۳۹۶/۵ اس روایت سے امانی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بجائے آرزوؤں اور خوش فہمیوں پر نجات کی بنیاد رکھ لینا۔ اس کی ایک صورت فخر ہے یعنی ذاتی صفات کے بجائے کچھ ظاہری چیزوں کو بنیاد بنانا اور اس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کر لینا۔

کون شریعت پہلے آئی اور کون شریعت بعد کو آئی، یہ خدا کے یہاں افضلیت کی بنیاد نہیں ۔ اسی طرح یہ بھی اصل اہمیت کی چیز نہیں کہ کون اس رسول کے نام پر بننے والے گروہ سے وابستہ تھا اور کون اس رسول کے نام پر بننے والے گروہ سے۔ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کی بنیاد نہیں کہ کس کا دین افضل ہے اور کس کا دین غیر افضل۔ یہ سب خدا کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page