گروہی صداقت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۹
اِسی طرح ان لوگوں نے کہا جن کے پاس علم نہیں، اِنہی کے جیسا قول۔ پس اللہ قیامت کے دن اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑ رہے تھے (البقرہ ۱۱۳) قرآن کی اس آیت میں زوال یافتہ امت کی اس خرابی کا ذکر کیا گیا ہے جس کو گروہی صداقت کہا جا سکتا ہے۔ دور زوال میں ایسا ہوتا ہے کہ امت بہت سے گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس کا ہر گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف میرا گروہ حق پر ہے اور دوسرے تمام گروہ باطل پر۔ باعتبار حقیقت، ان میں سے ہر ایک کا دین گروہ پرستی ہوتا ہے مگر بطور خود ہر گروہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو حق پرستی پر قائم کر رکھا ہے۔ اس اختلاف کا سبب کیا ہے۔ اصل یہی ہے کہ امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو خدا کی رسی لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ اب وہ خدا کو چھوڑ کر کسی نہ کسی غیر خدا کو اپنی توجہیات کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ یہی چیز اختلافات کا اصل سبب ہے۔ اگر لوگ خدا کی رسی پکڑے ہوئے ہوں تو چونکہ خدا ایک ہے اس لئے ان کی جماعت بھی ایک بنے گی۔ مگر جب خدا کے بجائے دوسری چیزیں لوگوں کی عقیدہ اور توجہ کا مرکز بن جائیں تو چونکہ چیزیں متعدد ہیں اس لئے ان کی جماعتیں بھی متعدد ہو جائیں گی۔
ایک خدا کے ساتھ اعتصام امت کو ایک واحد گروہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جب لوگوں کا تعلق خدا سے کمزور ہو جائے تو ہر طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے الگ الگ مرکزِ عقیدت بنا لے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کی وحدت کمزور ہو جائے گی اور اس کے افراد مختلف گروہوں میں بٹ کر منتشر اور منقسم ہو جائیں گے۔
اس معاملہ کی نسبت سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو سچائی کو خدا کی نسبت سے پہچانے۔ اور دوسرے وہ جو سچائی کو اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانے۔ خدا کے نزدیک پہلا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues