ناحق مال کھانا
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا گروہ ضلالت پر۔
خدا کو سچائی کی نسبت سے پہچاننے والے وہ لوگ ہیں جو حق کو ماننے کے لئے صرف اس بات کو کافی سمجھیں کہ اس کے حق میں خدا کی دلیل موجود ہو۔ خدا کی دلیل سامنے آنے کے بعد اس کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہو۔
اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو سچائی کو صرف اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانتے ہوں۔ ان کے نزدیک حق صرف وہ ہوتا ہے جو ان کے گروہ ہی مسلک کے مطابق ہو، جس کے حق میں ان کے گروہ ہی بزرگوں کا قول موجود ہو، جس کی تائید ان کی گروہ ہی کتابوں سے ہو رہی ہو ۔ جس چیز کے حق میں یہ گروہ ہی شہادتیں نہ پائی جائیں اس کی حقانیت پر یقین کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ خدائی دلیلیں دے دی گئی ہوں ۔ ان دونوں جماعتوں میں پہلی جماعت خدا پرست ہے اور دوسری جماعت گروہ پرست، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو خدا پرست کیوں نہ بتا رہی ہو۔
ناحق مال کھانا
قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ایک حکم اس طرح آیا ہے۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور اپنے مال کے مقدمہ کو اس لئے حاکموں کے پاس نہ لے جاؤ تا کہ تم دوسروں کے مال کا کوئی حصہ باطل طریقہ سے کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو (البقرہ ۱۸۸) نزول قرآن کے زمانہ میں مدینہ کے بعض مسلمانوں سے ایک کمزوری ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد قرآن میں یہ ہدایت اتاری گئی۔ یہ آیت خصوصی طور پر بعد کے مسلمانوں کے لئے بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، بعد کی مسلم نسلوں میں یہ خرابی عمومی طور پر پیدا ہو جائے گی جو کہ دور اول میں صرف جزئی طور پر ظاہر ہوئی تھی۔ اس آیت میں مال و جائیداد کے ایسے نزاعی معاملات کا ذکر ہے جن میں آدمی کو معلوم ہو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues