Al-Risala · August 1999 · page 18

فرضی کریڈٹ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸

انھوں نے کیا ہی نہیں۔ وہ نجات اخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے خود ساختہ دین پر چلتے ہیں مگر وہ اپنے کو دین خداوندی کا علم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لئے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر امت کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔

مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ... آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پرواہ ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا اور رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔ یہی حال امت مسلمہ کے افراد کا بھی اس وقت ہو جاتا ہے جب کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ چکی ہو۔

امت کے افراد میں زندہ ایمان موجود ہو تو ان کی حساسیت پوری طرح بیدار رہتی ہے ان کی یہ حساسیت اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈیٹ لینا چاہیں جس کو حقیقی اعتبار سے انھوں نے انجام ہی نہیں دیا مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس میں یہ حساسیت زندہ نہیں رہتی۔ اب ان کے افراد بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یہی بے حسی وہ چیز ہے جو انھیں آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایسے عمل کا انعام لینے کے لئے دوڑ پڑے جس کو زروئے واقعہ انھوں نے انجام ہی نہ دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page