فرضی کریڈٹ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
آتا ہے تو وہ اس معنی میں نہیں ہوتا کہ وہ علانیہ طور پر دین سے بے تعلق ہو جائے۔ وہ ہمیشہ اس معنی میں ہوتا ہے کہ لوگ بظاہر تو دین سے وابستگی کا اعلان کرتے ہیں مگر ان کا سرکش مزاج یا ان کی خود غرضانہ نفسیات دین کے تابع بننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ ان کے درمیان وہ عمل شروع ہو جاتا ہے جس کو قرآن میں تحریف کہا گیا ہے۔ اب وہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ خدا کے کلام کو بدل کر یا اس کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی خود خدا کے دین کا تقاضا بھی ہے۔ یہ گویا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ بے عملی خدا کے یہاں معاف ہو سکتی ہے مگر سرکشی یقینی طور پر قابل معافی نہیں۔
فرضی کریڈٹ
قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں اہل کتاب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے ---- جو لوگ اپنے کئے ہوئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے (آل عمران۔ ۱۸۸) آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا پر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔ اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں، وہ بے دین ہو کر بھی اپنے کو دیندار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کا کریڈیٹ دیا جائے جس کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues