خدا کی رحمت سے دوری
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
اس آیت میں اس سلسلہ میں ایک بنیادی چیز کی نشان دہی کی گئی ہے، اور وہ ہے نہی عن المنکر کی اہمیت ۔ یہود جزئی اور ظاہری نوعیت کی چیزوں میں دین کی خوب نمائش کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ ان کا یہ حال تھا کہ معاشرہ میں وہ دیکھتے تھے کہ لوگ اخلاقی برائیاں کر رہے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ زیاد تیاں کر رہے ہیں ، لوگ معاملات میں خدائی احکام کو چھوڑے ہوئے ہیں مگر وہ دیکھنے اور جاننے کے باوجود چپ رہتے تھے۔ وہ برائی کرنے والوں کی مذمت نہیں کرتے تھے۔ یہی دو عملی ان کور رحمت خدا وندی سے دور کرنے کا باعث بنی۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل جب گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو ان گناہوں اور برائیوں سے روکا مگر وہ ان سے نہیں رکے۔ اس کے باوجود علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے۔ اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے۔ پھر اللہ نے ایک کا اثر دوسرے پر ڈال دیا اور پھر داؤد اور عیسیٰ کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم کو معروف کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں منکر سے روکنا ہوگا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا تمہیں لوگوں کو حق کی طرف موڑنا ہوگا ورنہ اللہ تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح یہود پر لعنت کی ( تفسیر ابن کثیر ۲ / ۸۳ )
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد اصلاً کوئی حکومتی نظام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر مسلمان، خصوصاً علماء کے اندر یہ اسپرٹ موجود ہو کہ وہ برائی کو کسی حال میں گوارہ نہ کریں۔ معاشرہ میں خیر کی نصیحت کا ماحول ہو۔ لوگوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues