فرضی عقیدہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
یہ عمومی مزاج ہو کہ وہ معاشرہ کے اندر برائی اور زیادتی کو کسی حال میں برداشت نہ کریں۔ جب بھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کسی قسم کی زیادتی کرتا ہوادکھائی دے تو پورا معاشرہ اس کو رد کر دے۔ ایسے مسلمان کو سمجھایا جائے۔ اگر سمجھانا کافی نہ ہو تو معاشرہ کے لوگ اس کی کھلی مذمت کریں۔ اس پر اتنا زیادہ معاشرتی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی غلط کاری کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔
مسلم معاشرہ میں برائی کی مذمت کرنا اور برائی کرنے والے کو روکنا اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اگر کوئی مسلم معاشرہ اس ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کیلئے اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم کر دیا جائے، خواہ اس کے درمیان نمائشى مذہب پوری دھوم کے ساتھ موجود ہو۔
فرضی عقیدہ
قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــ اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گناہوں پر تم کو سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو ۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (المائدہ ۱۸)
دور زوال میں امت کے افراد میں جو غلط تصورات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اس بھرم میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے افضل ہیں۔ ان کا معاملہ خدا کے یہاں دوسروں سے مختلف ہوگا۔ دوسرے لوگ جن باتوں پر پکڑے جائیں گے اس پر ان کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues