Al-Risala · August 1999 · page 22

فرضی عقیدہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

پکڑ ہو ہونے والی نہیں۔

اصل یہ ہے کہ امت جب خیر وصلاح کی حالت پر ہوتی ہے تو اس کو خدا کی طرف سے بشارتیں ملتی ہیں۔ اس کے افراد کے لئے رحمت و مغفرت کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ وعدہ یا بشارت تمام تر ان کے حسنِ عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ امت سے محض نسلی تعلق کی بنیاد پر۔ دور زوال میں لوگ اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ وہ ان بشارتوں کو نسل اور وراثت سے متعلق سمجھ لیتے ہیں جو صرف کردار اور صلاحیت سے تعلق رکھتی تھیں۔ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی یہی غلطی ہے جس کی بنا پر بعد کو آنے والے زوال یافتہ لوگ ایک ایسے انعام کو اپنا حصہ سمجھ لیتے ہیں جس کا استحقاق انہیں سرے سے حاصل ہی نہیں۔

خدا کے نزدیک ہر آدمی یکساں ہے۔ خدا ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان صرف کردار کی بنیاد پر فرق کرتا ہے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ امت کے افراد میں جب دین کا حقیقی شعور زندہ ہو تو کسی اشتباہ یا مغالطہ کے بغیر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا رب ان کے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ صرف اس وقت کرے گا جب کہ ان کا حقیقی عمل دوسروں سے مختلف ہو۔ بصورت دیگر، خدا کے یہاں ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کے جیسے دوسرے انسانوں کا انجام ہونے والا ہے۔

لیکن امت جب اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو اس کے افراد حقائق کے بجائے خوش فہمیوں میں جینے لگتے ہیں۔ اس دور زوال میں امت کے افراد میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے ایک وجہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا۔

نسلی نجات یا گروہی نجات کا تصور قرآن و حدیث میں سراسر اجنبی ہے۔ خدا کی نظر میں تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ گروہ یا نسل جیسی چیزوں سے ایک انسان اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page