Al-Risala · August 1999 · page 24

سنت الہی

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

آیت کے مطابق خدا کے یہاں انعام کا استحقاق صرف ان افراد کے لئے ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین دیں اور اپنی زندگیوں میں عمل صالح کا طریقہ اختیار کریں۔ گویا نجات آخرت کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی فرد نے اپنے آپ کو کیسا بنایا، نہ یہ کہ وہ کس خاص گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔

سنت الہی

بنی اسرائیل (یہود) کے دور زوال کی تاریخ کا ایک واقعہ قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیان پانی کے اوپر آتیں اور جس دن سبت نہ ہو تا تو نہ آتیں ۔ ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔ (الاعراف۔ ۱۶۳)

اس آیت میں ایک خدائی قانون کو ایک تاریخی مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے، وہ قانون یہ ہے کہ کتاب خداوندی کی حامل قوم کو ابتدا آسان حالات میں دین پر عمل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ مگر جب وہ اس کی تعمیل نہ کرے تو حالات میں سختی پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آسانی کے بعد مشکل، اور مشکل کے بعد مشکل تر، حتی کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ دینی تقاضے پر عمل کرنا ہی حالات کے اعتبار سے اس کے لئے ممکن نہ رہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تذکیر القرآن)

غور کیجئے تو موجودہ مسلم نسلوں کا معاملہ عالمی سطح پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ دعوت امت محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے۔ یعنی خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام رحمت پہنچانا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے چونکہ یہ کام انجام نہیں دیا اس لئے ہر اگلے مرحلے میں اسی نسبت

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page