سنت الہی
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵
سے ان کے لئے حالات سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی لازمی ذمہ داری تھی کہ وہ اس ملک کے غیر مسلموں سے معتدل تعلقات قائم کر کے انھیں خدا کے دین رحمت سے باخبر کریں۔
اٹھار ہویں صدی کے آخر تک مسلمان بر صغیر میں حاکمانہ حیثیت رکھتے تھے اس طرح انھیں یہ موقع حاصل تھا کہ وہ الید العلیا بن کر پوری آزادی کے ساتھ دعوت کا کام کر سکتے تھے مگر یہ مدت گزر گئی اور انھوں نے اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ انیسویں صدی میں ہندوستان میں انگریزوں کا سیاسی غلبہ ہو گیا۔ تاہم اب بھی دعوتی مواقع کسی قدر تبدیلی کے ساتھ موجود رہے۔ انگریزوں نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے مختلف طبقوں کے درمیان توازن برقرار رکھا تھا۔ اس نے مسلمانوں ہند کو یہ موقع دے دیا کہ وہ مساویانہ سطح پر برادران وطن کو دعوت پہنچائیں۔ مگر یہ موقع بھی انھوں نے کھو دیا۔ اس موقع کو انھوں نے اس طرح برعکس طور پر استعمال کیا کہ غیر مسلموں سے مناظرہ بازی جیسے کام کر کے ان کو اسلام سے دور کر دیا یہاں تک کہ یہ موقع بھی ختم ہو گیا۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد ایک نیا دور آیا۔ اب سیکولرزم کے اصول کے تحت نیا دستور بنایا گیا۔ اس دور میں پہلا موقع توان کے لئے ختم ہو گیا۔ البتہ سیکولر دستور کے تحت انھیں ایک حقوق یافتہ اقلیت کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ان کو دستور کی رو سے یہ حق دیا گیا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں مانیں اور ملک میں پرامن طور پر جس مذہب کی چاہیں اشاعت کریں۔ مگر پچاس سال کی مدت گزر گئی اور وہ اس امکان کو استعمال کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے۔ ۱۹۹۸ سے ملک میں ایک نیا سیاسی دور شروع ہوا ہے۔ اس دور کے بارے میں تقریباً
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues