قول بلا فعل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳
کرو نہیں۔(الصف ۲-۳)
مسلمانوں میں جب ایمان کی کمزوری آتی ہے تو اس کمزوری کا اظہار ”قول“ کی سطح پر نہیں ہو تا بلکہ ”فعل“ کی سطح پر ہو تا ہے اب بھی لوگ اچھی اچھی باتیں بولتے ہیں، مگر وہ اپنی بات کے مطابق اچھے عمل نہیں کرتے۔ قرآن کے مطابق جن اچھے الفاظ کے ساتھ اچھا عمل شامل نہ ہو وہ آدمی کے لئے نہ کوئی قابل تعریف بات ہے نہ اس کو ایسی باتوں پر کوئی انعام ملنے والا ہے۔
مذکورہ آیت میں جس قول بلا فعل کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی تقریروں میں جہاد اور اقدام کی باتیں کرے مگر وہ جہاد اور اقدام کی کارروائیوں میں عملی شرکت نہ کرے۔ اپنے الفاظ میں وہ اپنے آپ کو مجاہد ظاہر کرے مگر اپنے عمل کے اعتبار سے وہ صرف پیچھے رہنے والوں میں ہو۔ اپنی تقریر اور تحریر میں وہ عزیمت اور قربانی کا درس دے رہا ہو مگر حقیقی عمل کے اعتبار سے اس کا حال یہ ہو کہ اپنے ذاتی مفاد کے سوا کسی اور چیز سے اسے دلچسپی نہ ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو الفاظ کے اعتبار سے اپنے آپ کو اچھا انسان اور اچھا مسلمان ظاہر کریں مگر اپنی عملی زندگی کے اعتبار سے وہ صرف ایک سطحی اور خود غرض اور مفاد پرست انسان بنے ہوئے ہوں۔ خدا کی نظر میں ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کی اچھی باتیں صرف ان کے جرم کو بڑھانے والی ہیں، وہ کسی بھی درجہ میں ان کو انعام کا مستحق بنانے والی نہیں۔
امام مالک اپنی مؤطا میں کہتے ہیں قاسم بن محمد تابعی جنھوں نے صحابہ کو دیکھا تھا، وہ صحابہ کے بارے میں کہتے تھے کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ قول پر خوش اور متعجب نہیں ہوتے تھے۔ امام مالک اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues