قول بلا فعل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
اس کا دوسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے کتاب الہی کا اعلان واظہار کیا جائے۔ کتاب الہی کے پیغام سے لوگوں کو پوری طرح باخبر بنادیا جائے۔ مگر کتاب الہی کا حامل گروہ اپنی بعد کی نسلوں میں جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو جس طرح اس سے دوسری مطلوب صفات گم ہو جاتی ہیں، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کتاب الہی کی تبیین و تبلیغ کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
کتاب الہی کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ حاملین کتاب کے اندر دوسروں کے لئے خیر خواہی موجود ہو۔ اور دور زوال میں ایسے لوگوں سے جو چیز سب سے زیادہ رخصت ہو جاتی ہے وہ یہی انسانی خیر خواہی ہے۔ اس کام کو درست طور پر صرف وہ لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر یہ اخلاقی بلندی ہو کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کر سکیں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ اخلاقی بلندی نہیں ہوتی اس لئے وہ کتاب الہی کی دعوتی ذمہ داریوں کو بھی پورا نہیں کر پاتے۔
کتاب الہی کی تبیین کا کام انتہائی نازک کام ہے۔ اس کو صرف ایسے افراد انجام دے سکتے ہیں جو انتہائی سنجیدہ اور با اصول ہوں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ دونوں صفات سرے سے موجود ہی نہیں ہو تیں۔ ان میں نہ سنجیدگی ہوتی ہے اور نہ اصول پسندی۔ یہی وجہ ہے کہ اس فرض کی ادائیگی میں وہ مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔ دور زوال کا یہ مظہر پچھلے حاملین کتاب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اور بعد کے حاملین کتاب میں بھی۔
قول بلا فعل
قرآن کی سورہ نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ۔۔ اے ایمان والو تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ ۔۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues