Al-Risala · August 1999 · page 35

اشاعت فاحشہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا وہ تمہارے اندر ہی کی ایک جماعت ہے۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لئے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا۔ اور جس نے اس میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب ہے۔ جب تم لوگوں نے اس کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے۔ یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ (النور ، آیت: ۱۲)

پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں مدینہ میں بہت سے کمزور ایمان والے تھے۔ ان سے کوتاہیاں ظاہر ہوتی تھیں جن پر قرآن کی آیتیں اترتی تھیں، اس طرح کے واقعات بعد کے دور کے مسلمانوں کے لئے عبرت و نصیحت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مذکورہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مسلم سماج میں کوئی شخص ایک بری خبر سنائے تو سننے والے ہرگز ایسا نہ کریں کہ وہ محض سن کر اس پر یقین کر لیں۔ ان کو اس معاملے میں حسن ظن سے کام لینا چاہئے۔ خبر یا واقعہ کی کوئی اچھی توجیہہ کرنی چاہئے تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی کی فضا پیدا نہ ہو۔ بالفرض اگر اس خبر کو ماننا ہو تو ایسی صورت میں لازم ہے کہ سننے والے اس خبر کی تحقیق کریں۔ وہ خبر سنانے والے سے گواہی کا مطالبہ کریں۔ وہ اس سے کہیں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کا باقاعدہ ثبوت پیش کرو۔ اگر وہ آدمی اپنی خبر کے حق میں باقاعدہ شرعی ثبوت پیش کرے تو اس کو مانا جائے ورنہ اس کو قطعی طور پر رد کر دیا جائے۔ کسی شخص کے خلاف ایک بری بات سن کر اس کو دوسروں سے بیان کرنا ایک نا قابل

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page