Al-Risala · August 1999 · page 36

حامل کتاب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

معافی جرم ہے۔ اس کو قرآن میں اشاعت فاحشہ کہا گیا ہے (النور۔ ۱۹) یعنی ایسی بات کا چرچا کرنا جو کسی شخص کو سماج میں بدنام کرنے والی ہو۔ زوال یافتہ سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بری باتوں کو سننے سے بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ الزام اور حقیقی واقعہ میں فرق نہیں کرتے۔ ایک بے ثبوت الزام کو بھی وہ اسی طرح مان لیتے اور بیان کرتے ہیں جس طرح ثابت شدہ واقعہ ہو۔ یہ کسی سماج کی بدترین حالت ہے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کے غضب کا شکار ہو جائیں۔

حامل کتاب

قرآن کی سورہ نمبر ۶۲ میں یہود کے بارے میں کہا گیا ہے کہ...... وہ لوگ جنھیں تورات کا حامل بنایا گیا پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا۔ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (الجمعہ۔ ۵) آسمانی کتاب کا حامل بننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو اٹھانے والا اس کو انسان کی حیثیت سے اٹھائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو اس طرح اٹھایا جائے جیسے کوئی حیوان اپنی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں یہ ہوگا کہ کتاب کو اٹھانے والا انسان اپنے ذہن اور قلب کے اعتبار سے اس کا حامل بنا ہوا ہوگا۔ وہ کتاب کی تعلیمات کو اپنی حقیقی زندگی میں اور اپنے قول وعمل میں شامل کئے ہوئے ہوگا۔ اس کے برعکس حیوان کی پیٹھ پر جب کوئی کتاب لادی جائے تو وہ صرف اس کے پیٹھ کے اوپر ہو گی وہ اس کے اندرونی وجود میں داخل نہیں ہوگی۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امت جب اس حال میں ہو کہ خدا کی کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page