حامل کتاب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
ایک وہ شخص ہے جو صاحب کتاب ہو، اور دوسرا شخص وہ ہے جس کو یہاں وارث کتاب کہا گیا ہے۔ خدا کی کتاب سے مطلوب وابستگی صرف وہ ہے جو پہلی قسم کی وابستگی ہو۔ دوسری قسم کی وابستگی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
صاحب کتاب وہ ہے جو خدا کی کتاب کو اپنے ذہن میں اتارے ہوئے ہو۔ خدا کی کتاب جس کے لئے زندگی کی رہنما بن جائے۔ وہ خدا کی کتاب کو اس طرح لے کہ اس کے تمام حقوق ادا کر رہا ہو۔
وارث کتاب وہ ہے جس نے خدا کی کتاب کو بذات خود شعوری طور پر دریافت نہ کیا ہو، بلکہ اس کو خدا کی کتاب نسلی وارثت کے طور پر مل جائے خدا کی کتاب اس کے گھر کا اثاثہ تو ہو مگر وہ اس کے ذہن کی روشنی اور اس کی روح کی زندگی نہ ہو۔ مذکورہ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب کتاب اور وارث کتاب کی الگ الگ پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ صاحب کتاب ایک متقی انسان ہوتا ہے اور وارث کتاب ایک غیر متقی انسان۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں صاحب کتاب ہو اس کو خدا کی کتاب خدا سے ڈرنے والا بنا دے گی۔ وہ ایک اندیشہ ناک زندگی گزارنے لگے گا۔ خدا کا خوف ہر لمحہ اس کی رگوں میں تیر تا رہے گا۔
اس کے برعکس جو آدمی وارث کتاب ہو اس کا حال یہ ہوگا کہ اس کی زندگی الگ ہوگی اور خدا کی کتاب الگ۔ خدا کی کتاب اس کے گھر کے طاق پر تو ضرور رکھی ہوئی ہوگی مگر وہ اس کے سینہ میں داخل نہیں ہوگی، وہ قلب وروح میں بجلی بن کر نہیں تیرے گی۔ اس کے اور خدا کی کتاب کے درمیان ایسا ہی تعلق ہو گا جیسے کوئی کتاب بستہ میں بند - کر کے کسی کھونٹی پر لٹکا دی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues