Al-Risala · August 1999 · page 37

حامل کتاب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

اس کے دماغ میں اتری ہو اور اس کی روح میں سرایت کئے ہوئے ہو تو ایسی حالت میں وہ حقیقی معنوں میں کتاب الٰہی کی حامل قرار پائے گی۔ لیکن جب امت زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے افراد کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں الگ ہوتی ہیں اور خدا کی کتاب الگ۔

مذکورہ دونوں حالتوں میں سے پہلی حالت خدا کی مطلوب حالت ہے، اور دوسری حالت خدا کی غیر مطلوب حالت۔ جب کسی امت میں یہ دکھائی دے کہ اس کے افراد کی زندگیاں کتاب الٰہی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہیں، تو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ امت اپنے معیاری دور میں ہے۔ لیکن جب امت کے افراد کی زندگیاں کتاب الٰہی سے بے تعلق نظر آئیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ چکی ہے۔ ایسی قوم کے لئے کتاب الٰہی کا حامل ہونا، ایسا ہی ہے جیسے کسی حیوان کی پیٹھ کے اوپر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے اور یہ حیوان اس سے اتنا زیادہ بے خبر ہو کہ اس کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کی پیٹھ پر کیا چیز لادی ہوئی ہے۔

یہی بات قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ ۔۔ پھر ان کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو وہ اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں ۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے ، کیا تم سمجھتے نہیں۔ (الاعراف ۔ ۱۶۹)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب سے وابستہ ہونے کی دو صورتیں ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page