فتنه امت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰
ہے۔ ان میں سے ہر خواہش یا ہر آرزو اپنی تکمیل کے لئے مال چاہتی ہے اس لئے ہر آدمی بس مال و دولت کے پیچھے دوڑ رہا ہے ہر آدمی بس کمانے والا جانور (حیوان کاسب) بن گیا ہے جدید پر کشش سامانوس کی کوئی حد نہیں ، اس لئے مادی دنیا کی طرف انسان کی دوڑ کی بھی کوئی حد نہیں۔
اس نئے دور نے ساری صورت حال کو بدل ڈالا ہے۔ ۔۔۔۔ اخلاقی اور روحانی قدروں کی جگہ مادی قدروں کا غلبہ ہے۔ وقت کا بہترین استعمال صرف یہ ہے کہ اس کو دولت کمانے میں لگایا جائے۔ مقصدی زندگی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ مکمل طور پر مفاد پرستانہ زندگی نے لے لی ہے۔ انسانی صلاحیتیں بازار کا مال بن گئی ہیں، ہر آدمی تیار رہتا ہے کہ جس دکان پر اس کی زیادہ قیمت لگے وہاں وہ اپنے آپ کو بیچ دے۔ انسانی تعلقات تمام تر دنیوی مفاد کے تابع ہو گئے ہیں۔ دنیوی اہمیت کی چیزیں آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز بن گئی ہیں۔ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ہر آدمی اتنی زیادہ دولت اکٹھا کرنا چاہتا ہے کہ اس کے بیٹوں اور پوتوں تک کے لئے پر تعیش زندگی یقینی ہو جائے۔
یہ ہے وہ ماحول جس میں آج کا انسان جی رہا ہے۔ امت مسلمہ بھی اپنا سفر طے کرتے ہوئے اسی نئے زمانہ میں پہنچنے والی تھی اس لئے رسول کریم ﷺ نے پیشگی طور پر اپنی امت کو آگاہ فرمایا تا کہ امت جب نئے فتنوں سے بھرے ہوئے اس دور میں پہنچے تو وہ اس کے بارے میں اس حد تک باشعور ہو کہ اپنے آپ کو اس کی آلائشوں سے بچا سکے۔
آج امت مسلمہ اسی طوفانی فتنہ کے دور میں ہے۔ ہر مرد اور عورت، ہر جوان اور بوڑھا اس فتنہ کبریٰ کی زد میں ہے۔ دیہاتوں سے لے کر شہروں تک کوئی بھی اس سے بچا ہو نہیں۔ مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں کسی مسلمان کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues