Al-Risala · August 1999 · page 41

اضاعت صلاۃ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

چنانچہ کا یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا معیار ہے۔ جو مسلمان اس نئے مادی سیلاب میں ڈوبے سے اپنے آپ کو بچا لے وہ کامیاب ہوا، اور جو مسلمان اس مادی سیلاب میں غرق ہو جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہو گیا۔

اضاعت صلاۃ

قرآن کی سورہ نمبر ۱۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ۔۔ پھر ان کے بعد ایسے نا خلف جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو کھو دیا اور وہ خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے۔ پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے، البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی (مریم ۶۰-۵۹) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد امت مسلمہ کے بعد کے زمانے کے لوگ ہیں، یا تو اس کے مفہوم اول کے طور پر، ورنہ اس کے مفہوم ثانی کے طور پر۔۔۔ بعد کی نسلوں میں جب امت پر زوال آئے گا تو اس کے ایک گروہ کا وہ حال ہو جائے گا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے ( هم قوم من امة محمد ﷺ فى آخر الزمان) تفسیر القرطبی ۱۱/ ۱۲۲ اس آیت میں اضاعت صلاۃ سے مراد ترک صلاۃ نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ سرے سے نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے اور مسجدیں نمازیوں سے خالی ہو جائیں گی۔ ایسا نہ کسی سابقہ امت میں ہوا اور نہ امت محمد میں ایسا کبھی ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز کو ضائع کرنے سے مراد نماز کی روح کا ضائع ہونا ہے نہ کہ نماز کی شکل کا باقی نہ رہنا۔ (هی عدم القيام بحقوقها) القرطبی ۱۱/ ۱۲۲ یہ بات حدیث میں زیادہ واضح لفظوں میں آئی ہے۔ مسند احمد اور الترمذی (کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page