Al-Risala · August 1999 · page 50

قانون فطرت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۵۰

کا نمونہ آج ہر طرف نظر آتا ہے۔

زوال کے اس قانون سے بچنا کسی امت کے لئے ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ جب امت کے افراد میں زوال آجاۓ تو ان میں احیاء نو (regeneration) کی تحریک چلائی جاۓ۔ یعنی ان کی کوتاہیوں کی نشاندہی کر کے ان کے اندر نیا شعور جگانا۔ تذکیر و نصیحت کے ذریعہ ان کے اندر اصلاحی اسپرٹ پیدا کرنا۔ یہی حقیقت مذکورہ آیت میں زمین کی مثال سے بتائی گئی ہے۔ ایک زمین اگر مردہ ہو جاۓ یعنی وہ فصل اگانے کے قابل نہ رہے تو ایسی زمین کو دوبارہ زرخیز بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ زمین میں دانا ڈالنے سے پہلے اس کو تیار کیا جاۓ۔ اس کے اندر سے کنکر پتھر کو نکالا جاۓ۔ جھاڑ جھنکار کو صاف کیا جاۓ۔ اس کی کھدائی کی جاۓ۔ اس میں کھاد ڈالی جاۓ۔ پانی سے سینچائی کر کے اس کو نرم بنایا جاۓ۔ اس طرح کے عمل کے بعد جب زمین تیار ہو جاۓ تو اس میں دانا ڈالا جاۓ۔ تیاری کے بغیر زمین میں دانا ڈالنا، دانے کو ضائع کرنا ہے۔ لیکن جب تیاری کے بعد زمین میں دانا ڈالا جاتا ہے تو وہ لہلہاتی ہوئی فصل میں بدل جاتا ہے۔ یہی معاملہ زوال یافتہ امت کا بھی ہے۔ ایسی امت کو دوبارہ اٹھانے کا کام اس طرح نہیں ہو سکتا کہ جوش دلا کر اس کو فوری طور پر حرکت میں لانے کی کوشش کی جاۓ۔ اس کے بجاۓ صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے افراد کو تیار کیا جاۓ۔ ایسی امت میں کام کا آغاز عملی پروگرام سے نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس میں کام کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ پہلے اس کے افراد میں ذہنی انقلاب لانے کی کوشش کی جاۓ یہاں تک کہ اسلام ان کے لئے از سر نو دریافت (rediscovery) بن جاۓ۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر اسلامی عمل کی شاندار فصل اگائی جاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page