Al-Risala · August 1999 · page 49

قانون فطرت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹

قانون فطرت

قرآن کی سورہ نمبر ۵۷ میں اہل اسلام کو خطاب کرتے ہوۓ کہا گیا ہے کہ ..... کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی۔ پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو (الحدید ۱۶-۱۷)

اس آیت میں یہود کی تاریخی مثال سے فطرت کے ایک قانون کو واضح کیا گیا ہے۔ اس دنیا کے فطری قوانین میں سے ایک قانون قانون زوال (degeneration) ہے۔ یعنی ابتدائی معیاری حالت کے بعد اس میں کمی واقع ہونا۔ یہود کی ابتدائی نسل نے جب پیغمبر کی دعوت کو قبول کیا تو یہ ان کے لئے ایک فکری انقلاب کے ہم معنی تھا۔ انھوں نے شعوری طور پر ایک دین کو چھوڑا اور شعوری طور پر دوسرے دین کو اختیار کیا۔ مگر ان کی نسل کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ بعد کے لوگوں کو یہ دین وراثتی طور پر ملا تھا نہ کہ کسی شعوری فیصلہ کے تحت۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کی ابتدائی نسل میں جو دینی صفات تھیں وہ ان کی بعد کی نسلوں میں باقی نہ رہیں۔

یہ ایک عمومی قانون ہے اور اس کا تعلق ہر امت سے ہے۔ چنانچہ یہی اندیشہ خود امت مسلمہ کے لئے بھی ہے۔ اس امت کے ابتدائی لوگ (اصحاب رسول) شعوری فیصلہ کے تحت اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کے اندر اعلی ایمانی اوصاف پوری طرح موجود تھے مگر بعد کی نسلوں میں زوال آنا شروع ہوا یہاں تک کہ وہ اس نوبت کو پہنچ گیا جس

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page