مشاہدۂ خداوندی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴
مشاہدۂ خداوندی
قال رسول الله ﷺ : اهل الجنة فى نعيمهم اذسطع عليهم نور فرفعوا رؤسهم فاذا الرب تبارك وتعالى قد اشرف عليهم من فوقهم. فقال السلام عليكم يا اهل الجنة. وذالك قوله تعالى (سلام قولا من رب الرحيم) قال فينظر اليهم وينظرون اليه . فلا يلتفتون الى شي من النعيم ما داموا ينظرون اليه حتى يحجب عنهم (ابن ماجه) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے کہ ان کے اوپر ایک روشنی نمودار ہوگی۔ وہ اپنا سر اٹھائیں گے۔ اچانک وہ دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر جلوہ گر ہے۔ وہ کہے گا کہ اے اہل جنت، تم پر سلامتی ہو۔ یہ وہی قول خداوندی ہے جس کا ذکر قرآن (لیس ۵۸) میں ہے۔ پھر اللہ انہیں دیکھے گا اور وہ اللہ کو دیکھیں گے ، وہ کسی دوسری نعمت کی طرف متوجہ نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ان سے حجاب میں چلا جائے۔
یہ سب سے زیادہ عجیب تجربہ ہے جو اہل جنت کو ہوگا۔ یہ اتنا زیادہ پر کشش ہوگا کہ اس وقت جنت کے لوگ دوسری تمام اعلیٰ ترین نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ وہ خدا جو خود اپنی ذات پر قائم ہے۔ جس نے تمام چیزوں کو عدم سے وجود بخشا۔ جو پوری کائنات کو اپنے کنٹرول میں لئے ہوئے ہے۔ جس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے۔ جس کی قدرت سب سے بالا اور سب سے برتر ہے۔ جو ہر قسم کے حسن اور کمال اور معنویت کا ابدی سر چشمہ ہے۔ جو انسان کی ہر سوچ سے بلند اور اس کے ہر تصور سے ماورا ہے۔ ایسے جلال و کمال والے خدا کا مشاہدہ بلاشبہ ایک ایسا بے مثال تجربہ ہوگا جس کو بیان کرنے کے لئے کوئی لفظ انسانی زبان میں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی روح اسی رب العالمین کو دیکھنے کے لئے بے قرار ہے۔ موجودہ آنکھ سے انسان اس ہستی کو نہیں دیکھ سکتا۔ مگر آخرت میں انسان کو وہ آنکھ حاصل ہو جائے گی جس سے وہ اس برتر ہستی کو دیکھے اور اپنی روح کو ابدی تسکین دے سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues