رسول کی سنت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۵
رسول کی سنت
عن عائشة ، قالت : ماخير رسول الله ﷺ بين امرين قط الا اخذ ايسر هما مالم يكن اثما، فان كان ن اثما كان ابعد الناس منه (متفق عليه)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو۔ پس اگر وہ گناہ ہو تا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے۔
اس حدیث میں ”ایسر“ کا لفظ سادہ طور پر محض سہل کے معنی میں نہیں ہے۔ آپ کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ سہولت پسندی سے بہت دور تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی قربانی اور جفا کشی کی اعلی سطح پر گزاری۔ ایسی حالت میں اس حدیث کو سہولت پسندی کے معنی میں کیسے لیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں ”ایسر“ کا لفظ زیادہ قابل عمل کے معنی میں ہے۔ حضرت عائشہ کی یہ روایت بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ممکن دائرہ میں کوشش کرنے کا تھا نہ کہ غیر ممکن دائرہ میں غیر ضروری طور پر اپنے وقت اور اپنی قوت کو ضائع کرنے کا۔ زندگی میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے ممکن سے آغاز، اور دوسرا ہے نا ممکن سے آغاز۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ نا ممکن کو چھوڑ کر ممکن میں اپنی قوت صرف فرماتے تھے۔
مکہ کے ابتدائی سالوں میں ایک طریقہ کھلم کھلا تبلیغ کا تھا اور دوسرا خفیہ تبلیغ کا۔ آپ نے تین سال تک کھلم کھلا تبلیغ کو چھوڑ کر خفیہ تبلیغ کا طریقہ اختیار فرمایا۔ مکہ میں جب لوگوں نے مخالفت اور ایذا رسانی شروع کی تو ایک طریقہ جوابی کارروائی کا تھا اور دوسرا اعراض کا۔ آپ نے جوابی کارروائی کا طریقہ چھوڑ کر اعراض کا طریقہ اختیار فرمایا۔ مکی دور کے آخر میں لوگ آپ کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues