رسول کی سنت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۶
قتل کے درپے ہوگئے۔ اب ایک طریقہ ان سے لڑنے کا تھا اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ مکہ کو چھوڑ دیا جائے ۔ آپ نے لڑائی کو چھوڑ کر مکہ سے چلے جانے کا طریقہ اختیار فرمایا۔ ہجرت کے بعد آپ کے سامنے ایک طریقہ جنگ کو جاری رکھنے کا تھا اور دوسرا طریقہ صلح کر لینے کا۔ آپ نے جنگ کے طریقہ کو چھوڑ کر یک طرفہ شرائط پر صلح کر لینے کا طریقہ اختیار فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں جو کامیابیاں حاصل کیں وہ اسی اصول کے ذریعہ حاصل کیں۔ آئندہ بھی جو لوگ کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہیں انھیں بھی اسی سنت رسول کی پیروی کرنا چاہئے۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ میں مخالفین سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا تو یہ اختیار ایسر کی ایک نہایت واضح مثال تھی۔ اس وقت آپ کے سامنے دو صورتیں تھیں ۔ ایک تھی ۔ مکہ میں رہ کر اپنے دعوتی کام کو جاری رکھنا۔ اور دوسری صورت تھی ۔ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جانا۔ پہلی صورت کا انتخاب گویا مشکل کا انتخاب (اختیار (عسر) کے ہم معنی تھا۔ اور دوسری صورت کا انتخاب آسان کا انتخاب (اختیار ایسر) کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ نے مشکل کو چھوڑ کر آسان کو اختیار فرمایا۔
اس اصول کو دوسرے لفظوں میں حکیمانہ تدبیر بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا کہ اسلامی دعوت کا کام بلا روک ٹوک جاری رہے۔ جبکہ اگر آپ پہلی صورت کا انتخاب فرماتے تو دعوت کا کام شاید معطل ہو جاتا۔ دعوت کے بجائے جنگ اور ٹکراؤ کا عمل شروع ہو جاتا۔ مشکل کا انتخاب صرف اس وقت کیا جائے گا جب کہ کوئی دوسرا چوائس نہ ہو۔ لیکن اگر مشکل اور آسان میں سے ایک لینا ہو تو مشکل کو چھوڑ کر آسان کو اختیار کیا جائے گا۔ کسی منصوبہ کی تکمیل کے لئے مذکورہ حکیمانہ تدبیر انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اگر اس حکمت کا لحاظ نہ کیا جائے تو ممکن ہے کہ قربانیوں کی تاریخ بن جائے، مگر مثبت تعمیر کی تاریخ کبھی نہیں بن سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues