Al-Risala · October 1999 · page 8

جنت کی قیمت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۸

جنت کی قیمت

جنت اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ کسی انسان کا عمل جنت کی قیمت بن سکے۔ انسان کا ہر عمل ناقص ہوتا ہے۔ جب کہ جنت ایک کامل اور معیاری دنیا ہے۔ پھر ایک ناقص چیز ایک کامل چیز کا بدل کیسے بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تمام انسانوں کے اعمال صالحہ کسی ایک شخص کو دے دیئے جائیں تب بھی وہ اس شخص کے لئے جنت کی قیمت نہیں بنیں گے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اعمال کا مجموعہ بھی بہر حال محدود ہوگا۔ جب کہ جنت لا محدود اور ابدی ہے۔ پھر کوئی محدود چیز اس کی قیمت کس طرح بن سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جنت کس کو ملے گی۔ جنت اس شخص کو ملے گی جس کو خدا جنت دینا چاہے۔ جنت کسی انسان کے لئے سراسر خدا کا عطیہ ہوگی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پھر وہ کون خوش قسمت انسان ہے جس کو خدا اس لئے چنے گا کہ اس کو اپنی قیمتی جنت کا باشندہ بنائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے اندر اس شخصیت کی تعمیر کی جو جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ بادشاہ کے محل کا ایک ملازم بادشاہ کے محل کی قیمت ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ صفائی اور سلیقہ کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ شاہی محل کے آداب کے مطابق وہاں رہ سکے تو اس کو محل میں داخلہ کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر جنت کا ہے۔ جنت کی لطیف اور نفیس کالونی اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ کوئی بھی اس کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ وہاں جو انسان بھی رہے گا وہ اللہ کی اجازت کی بنیاد پر وہاں رہے گا۔ مگر یہ اجازت صرف ان لطیف روحوں کو دی جائے گی جو جنت کی لطیف دنیا میں رہنے بسنے کے قابل ہوں۔

موجودہ دنیا میں انسان کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اپنے اندر اس لطیف شخصیت کی تعمیر کرے ۔ جن لوگوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ اعلیٰ شخصیت پائی ان کو وہ جنت میں داخل کر دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page