Al-Risala · October 1999 · page 9

حقیقی انسان

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۹

حقیقی انسان

اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ایک حقیقی انسان ہے۔ مگر انسانوں کے ہجوم میں یہی قیمتی چیز اتنی کم یاب ہے کہ ساری تاریخ میں شاید بہت کم انسان ایسے نظر آئیں جن کو واقعی معنوں میں حقیقی انسان کہا جاسکے۔

حقیقی انسان وہ ہے جو تمام ذہنی پردوں کو پھاڑ کر چیزوں کو ویسی ہی دیکھے جیسی کہ وہ ہیں۔ جو اپنے بارے میں اور دوسرے کے بارے میں یکساں طور پر بے لاگ رائے قائم کر سکے۔ جو بولے تو اس کا بولنا حقیقت واقعہ کا اعتراف ہو، جو عمل کرے تو اس کا عمل حقیقت واقعہ سے مطابقت رکھنے والا ہو۔ حقیقی انسان بننا ہمیشہ ایک مشکل ترین قربانی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ نفسیاتی قربانی ہے۔ لوگ نفسیاتی قربانی کی قیمت ادا نہیں کرتے اس لئے وہ حقیقی انسان بھی نہیں بنتے۔ حقیقی انسان وہ ہے جو سطحیّت، خود غرضی، جھوٹے وقار اور رد عمل کے احساسات سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا سکے۔ جو اختیار کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار کرنے کے لئے تیار ہو۔ جو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل ہونا نہ جانے۔ جو شکایت کے باوجود انصاف کی بات کہے۔ جو ذاتی تقاضوں کو کچل کر حق کی حمایت کرے۔ جو شخصی مفاد پر کھڑا ہونے کے بجائے بر تر اصول کی بنیاد پر کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جو نفرت کے حالات میں محبت کرے اور جنگ کے حالات میں صلح پر راضی ہو جائے۔

لوگ اپنی ذات کے لئے جیتے ہیں، حقیقی انسان وہ ہے جو مقصدِ حق کے لئے جئیے۔ لوگ دوست کے لئے دوست اور دشمن کے لئے دشمن ہوتے ہیں، حقیقی انسان ہر ایک کا خیر خواہ ہوتا ہے، چاہے وہ اس کا دوست ہو یا اس کا دشمن۔ لوگ ماحول کے مطابق سوچتے ہیں اور ماحول کے اثر کے تحت اپنا عمل کرتے ہیں، حقیقی انسان فطرت کی سطح پر سوچتا ہے، وہ فطرت کے زیر اثر اپنا سارا عمل کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page