Al-Risala · October 1999 · page 20

سچائی کا یقین

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

اعتدال کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ اسلام آدمی کو یقین کی یہی نعمت عطا کرتا ہے۔ ایک پہاڑ یا ایک جانور کی یہ ضرورت نہیں کہ وہ دنیا میں اپنے وجود کا جواز تلاش کرے مگر انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا ہے۔ اور وہ کس مقصد کے تحت دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں زندگی کا نظریہ (آئیڈیالوجی) کہا جا سکتا ہے۔ فلسفہ اس نظریہ حیات کی تلاش کا علم ہے۔ مگر پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت کی تلاش کے باوجودا بھی تک فلسفہ اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ فلسفہ اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ کر انسان کو صرف تشکیل اور بے یقینیت دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ فلسفہ کے بعد سائنس کا درجہ آتا ہے مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا ہے کہ وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے، کلی حقیقت تک پہنچنا سائنس کے لئے ممکن ہی نہیں۔

گویا سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مقابلہ کے میدان میں اترنے کی سرے سے اہل نہیں۔ اب آخری چیز جس سے اس معاملہ میں رجوع کیا جائے وہ مذہب ہے۔ یہاں بھی منظر زیادہ مختلف نہیں۔ بظاہر دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب پائے جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے سوا تمام مذاہب کی حالت بلا استثناء یہ ہے کہ ان کو نہ علمی تائید حاصل ہے اور نہ تاریخی اعتبار بیت۔ ان مذاہب کی مقدس کتابیں تحریف کی بناء پر صحیح باتوں کے ساتھ غلط باتوں کا مجموعہ بن گئی ہیں۔ اسی طرح ان کے تاریخی حالات اتنے کم معلوم ہیں کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے ان کی سچائی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح یہ تمام مذاہب بھی عملی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ انسان کو وہ سچائی دے سکیں جس پر وہ کامل یقین کے ساتھ قائم ہو جائے۔ افکار کے اس جنگل میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نہ صرف کامل سچائی کا حامل ہے بلکہ واقعاتی اعتبار سے وہ ایک ایسا مذہب ہے جس کی تاریخی اعتبار بیت میں کوئی شبہ نہیں۔ اسلام انسان کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو غیر مشتبہ سچائی کا حامل ہے۔ جو کلی صداقت کا سرما یہ اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ جو اپنی تاریخی نوعیت کے اعتبار سے اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page