Al-Risala · October 1999 · page 19

مذہبِ امید

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹

مذہبِ امید

اسلام امید کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات امید اور حوصلہ کا سبق دیتی ہیں۔ بظاہر مشکل اور ناکامی اور محرومی جیسے حالات میں بھی اسلام انسان کو امید اور حوصلہ کا سبق دیتا ہے۔ وہ شام کے اندھیرے میں بھی صبح کی روشنی کی خوشخبری سناتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ : وترجون من الله ما لا يرجون (النساء ۱۰۳)۔ یعنی اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ نہیں رکھتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص جو اسلامی فکر کا حامل ہو وہ ایسا انسان ہوتا ہے جو تاریکی میں روشنی دیکھتا ہے، جو وہاں بھی پرامید رہتا ہے جہاں دوسرے لوگ امید اور حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔

اس معاملے میں اسلام اس حد تک جاتا ہے کہ اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ قرآن میں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ : ولا تيئسوا من روح الله انه لا يايئس من روح الله الا القوم الكافرون ۵ (یوسف (۸۷) یعنی تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اللہ کی رحمت سے صرف منکر ہی ناامید ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کے لئے کسی بھی حال میں جائز نہیں کہ وہ مایوس ہو جائیں۔ حالات بظاہر خواہ کتنے ہی زیادہ غیر موافق ہوں مگر اہل ایمان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ آخر وقت تک پرامید بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خودکشی کی موت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

سچائی کا یقین

موجودہ دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہو کہ اس نے سچائی کو پالیا ہے۔ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے اس کے حق ہونے پر اسے کوئی شبہ نہ ہو۔ اس قسم کا یقین آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہی یقین آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان معتدل طور پر رہے۔ اس کو ذہنی سکون حاصل ہو۔ وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے اور دن کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page