صبر کا فائدہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴
صبر کا فائدہ
ایک حدیث قدسی کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر عوضته منهما الجنة (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۲۰/۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں سے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں اس کو اس کے بدلے جنت دے دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ دو محبوب چیزوں سے مراد دو آنکھیں ہیں۔
دو آنکھوں کی محرومی پر صبر کا جو انعام کسی کو خدا کی طرف سے ملتا ہے اس کا تعلق صرف جنت سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انسان کا انعام موجودہ دنیا ہی سے شروع ہو جاتا ہے جس کی آخری اور تکمیلی صورت یہ ہے کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے۔ ایسا انسان دنیا میں نابینا ہونے کے باوجود کامیاب رہتا ہے اور آخرت میں مزید اضافہ کے ساتھ بینا بھی اور کامیاب بھی۔
دونوں آنکھوں کی محرومی پر جب ایک آدمی صبر کر لے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کی اندرونی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اس کی داخلی شخصیت میں ایک نیا نفسیاتی عمل شروع ہو جاتا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی وہ مخصوص کھڑکیاں کھل جاتی ہیں جو خالق فطرت نے صرف اس لئے اس کے اندر رکھی ہیں تا کہ وہ ایمر جنسی کے وقت اس کے کام آئیں۔
یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے خانے ایسے ہیں جو عام حالات میں بالکل بند رہتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت کھلتے ہیں جب کہ انسان کسی ہنگامی حالت سے دوچار ہو جائے۔ صبر انہیں بند دروازوں کو کھولنے کی کنجی ہے۔ ایسے حادثے کے موقع پر جو لوگ غم اور فریاد کا شکار ہو جائیں، ان کے دماغ کے یہ ہنگامی خانے بدستور بند پڑے رہیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایسے موقع پر صبر کا مثبت رسپانس(positive response) دیں وہ فطرت
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues