Al-Risala · October 1999 · page 25

صبر کا فائدہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

کو اپنا عمل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظاہری آنکھوں سے محروم ہو کر وہ داخلی آنکھوں کی صورت میں اس کا بدل پا لیتے ہیں۔

راقم الحروف نے خود اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر بھوپال کے جناب الطاف احمد صاحب طویل عرصے سے بینائی سے محروم ہیں مگر وہ اپنے تمام کام معمول کے مطابق اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات ڈاکٹر ایوب لبنانی سے ہوئی۔ وہ ٹیمپل ٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اپنے تمام کام بالکل معمول کے مطابق انجام دیتے ہیں۔ حتی کہ مشین کی مدد سے وہ کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

آنکھ انسان کی تمام قیمتی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جب آنکھ جیسی قیمتی چیز سے محرومی پر صبر سے انسان کو نئی زندگی ملتی ہے تو دوسری محرومیوں پر صبر سے بدرجہ اولیٰ اس کو یہ چیز حاصل ہوگی۔ صبر ایک ایسی نعمت ہے جو کسی انسان کی ہر محرومی میں اس کا مددگار ہے۔ صبر کسی انسان کے لئے کھونے کو دوبارہ پانا بنا سکتا ہے۔ موت خاتمہ حیات نہیں موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ جو حادثات پیش آتے ہیں ان میں سب سے بڑا حادثہ موت کا حادثہ ہے۔ موت ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا فیصلہ کن زلزلہ ہے جس سے بچنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ کوئی بھی تدبیر اتنی طاقتور نہیں جو موت کو ٹالنے میں کار آمد ہو سکے۔ موت کا شکار ہر آدمی لازمی طور پر ہوتا ہے خواہ وہ غریب ہو یا امیر، خواہ وہ بے زور ہو یا زور آور۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا انسان موت کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے سوچتا رہا ہے۔ موت کی یاد ہر آدمی کی خوشیوں کے چراغ کو بجھا دیتی ہے۔ ہر آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا پیدا کرنے والے نے مجھ کو اسی لئے پیدا کیا تھا کہ میں چند سال زندہ رہ کر ختم ہو جاؤں، ایک محدود مدت دنیا میں گزار کر اس طرح یہاں سے جاؤں کہ میری کوئی بھی کامیابی موت کے اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page