Al-Risala · January 1999 · page 50

کو پے مرنے کا

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۵۰

ہے۔ مادی انسان صرف مخلوق کو دیکھتا ہے مگر روحانی انسان مخلوق میں خالق کا جلوہ پاللیتا ہے، وہ مخلوق میں خالق کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ خالق کی یافت میں کسی آدمی کو جو چیز ملے گی وہ مخلوق کی یافت میں نہیں مل سکتی۔

مزید یہ کہ روحانی دنیا میں غم اور راحت دونوں بالکل ایک بن جاتے ہیں۔ روحانی انسان لذت کے تجربہ میں جو چیز پاتا ہے وہی بلکہ اس سے زیادہ بڑی چیز وہ اس سے محرومی میں پاللیتا ہے۔ اس کے لئے خوشی کے قہقہہ سے بھی زیادہ پر لذت، درد کے وہ آنسو ہوتے ہیں جو تڑپتے ہوئے دل سے نکلیں۔ خدا کی یاد خود اپنی ذات میں اس کے لئے تمام لذتوں سے زیادہ بڑی لذت بن جاتی ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الا بذکر الله تطمئن القلوب (۲۸: ۱۳) یعنی اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ یہاں اطمینان سے مراد حقیقی اطمینان ہے۔ وقتی یا سطحی قسم کا اطمینان و سکون تو آدمی کو کسی بھی چیز سے مل سکتا ہے۔ مگر حقیقی نوعیت کا اطمینان و سکون کا سر چشمہ صرف خالق ہی کی ذات ہو سکتی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر ایک معیار پسند مخلوق ہے۔ معیار سے کم تر درجہ کی کوئی چیز وقتی طور پر اس کے دل کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔ مگر حقیقی اور دیر پا سکون معیار کامل ہی کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔

مادیت کی سطح پر جینا گویا حیوان کی سطح پر جینا ہے ۔ مادیت دوسرے لفظوں میں سطحیست پسندی کا نام ہے۔ حقیقی انسان وہ ہے جو روحانیت کی اعلیٰ سطح پر اپنے لئے جینے کا راز پالے۔ مادیت میں اگر لذت قہقہہ ہے تو روحانیت میں لذت درد۔ مادیت اگر محدود میں جینا ہے تو روحانیت کا مطلب ہے لا محدود میں جینے کا راز پالینا (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page