کو پے مرنے کا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹
میں بھی کچھ ظاہری چیزیں ہیں اور کچھ معنوی حقیقتیں۔ ظاہری چیزیں سطحی اور وقتی ہیں اور معنوی چیزیں گہری اور ابدی۔ روحانی انسان وہ ہے جو سطحی اور ظاہری چیزوں سے متاثر نہ ہو بلکہ اس کی روح زیادہ اعلیٰ اور گہری حقیقتوں میں بسی ہوئی ہو۔
یہ بات کسی مبالغہ کے بغیر درست ہے۔ جو لوگ مادی لذتوں میں جیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ لذت(pleasure) صرف مادی لذت کا نام ہے۔ مگر یہ صرف ناواقفیت کی بات ہے۔ ان لوگوں نے صرف مادی لذتوں کا تجربہ کیا ہے۔ اس لئے وہ اسی کو لذت سمجھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ روحانی لذتوں کا تجربہ کرتے تو یقیناً وہ مادی لذتوں کو بھول جاتے۔
مادی لذتوں میں جو لذت ہے وہ وقتی اور محدود ہے۔ اس کے مقابلہ میں روحانی لذت ایک ایسی چیز ہے جس کا ذائقہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
لذیذ قسم کا کھانا کھانے میں بھی لذت ہے۔ مگر لذیذ کھانا ایک بندہ خدا کے اندر شکر کے جذبہ کا جو آبشار جاری کرتا ہے اس کی لذت کی کوئی حد نہیں۔ ایک جدید کار میں بیٹھ کر سفر کرنے میں جو لذت ہے اس سے بہت زیادہ بڑی وہ لذت ہے جب کہ انسان کار کو اور اس قسم کی دوسری چیزوں کو دیکھ کر اس حقیقت کا ادراک کرے کہ خدا نے اپنی ناقابل بیان قدرت سے وہ حیرت انگیز دنیا بنائی جو کار اور ہوائی جہاز اور اس قسم کی دوسری نعمتوں میں ڈھل کر انسان کی راحت کا سامان بنے۔
مادی انسان صرف اس لذت میں لذت لیتا ہے جو خود اس کو ملی ہوئی ہو۔ مگر روحانی انسان اس سے بلند ہوتا ہے۔ دوسروں کو سامان راحت میں دیکھ کر بھی اس کے سینہ میں شکر کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ دوسروں کی مادی لذت اس کے اندر روحانی لذت بن کر اتر جاتی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues