Al-Risala · October 1999 · page 27

قناعت ایک نعمت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح کچھ اعمال کو گناہ قرار دیا ہے اسی طرح اس نے اس دنیا میں امکان بھی رکھ دیا ہے کہ گناہ سرزد ہونے کے بعد آدمی اپنے کو اس سے پاک وصاف کر سکے۔ وہ خدا کی دنیا میں ایک بے گناہ انسان کی حیثیت سے داخل ہو۔

قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کے لئے یہ عجیب امکان بھی رکھا ہے کہ اس کا گناہ بدل کر اس کے لئے نیکی بن جائے (الفرقان ۷۰)۔ وہ اس طرح کہ گناہ کے بعد جب آدمی شرمندہ ہوتا ہے اور گریہ وزاری کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے تو یہ گویا ایک ایسا واقعہ ہوتا ہے جب کہ اس کا گناہ اس کے لئے ایک نیکی کا سبب بن گیا۔ ابتداءً اگر وہ خدا سے دور ہوا تھا تو بعد کے مرحلہ میں وہ خدا سے اور زیادہ قریب ہو گیا۔ اس کی یہ روش خدا کو اتنا زیادہ پسند آتی ہے کہ اس کے گناہ کو بھی نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ خدا کا یہ قانون جو قرآن کے ذریعہ کھولا گیا ہے انسان کے لئے ایک عجیب نعمت ہے۔ وہ انسان کے لئے لازوال تسکین کا سرمایہ ہے۔

قناعت ایک نعمت

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قد افلح من أسلم ورزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه (مسند الامام احمد ۱۶۸/۲) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت روزی ملی اور اللہ کی توفیق سے وہ اس پر قانع رہا جو اللہ نے اس کو دیا تھا۔

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان اونچ نیچ رہتی ہے۔ اس بنا پر اکثر انسان سکون سے محروم زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو دیکھتے رہتے ہیں جن کو ان سے زیادہ ملا ہوا ہے۔ اس طرح وہ مسلسل طور پر ایک قسم کی حسرت کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں اور اسی حال میں مرجاتے ہیں۔

اس کا حل اسلام میں قناعت بتایا گیا ہے۔ قناعت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ملے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page